عراقی عدالت نے یورپی عورت کو داعش میں شمولیت و مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پھانسی کی سزا سنا دی

بغداد(آن لائن)عراق میں عدالت نے ایک مراکشی نژاد جرمن عورت کو پھانسی کی سزا سنادی ہے، خاتون پر شام اور عراق میں داعش تنظیم سے تعلق رکھنے اور اس کو مدد پیش کرنے کا الزام ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سپریم جوڈیشنل کونسل کے ترجمان بیرسٹر عبدالستار بیرقدار نے بتایا کہ سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ملزمہ نے دہشت گرد تنظیم کو مجرمانہ کارروائیوں کے ارتکاب کے واسطے لوجسٹک سپورٹ اور مدد پیش کی۔اس کے علاوہ خاتون کو عراقی سکیورٹی فورسز اور فوج پر حملوں میں شرکت کے حوالے سے بھی قصور وار ٹھہرایا گیا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی عدلیہ نے کسی یورپی عورت کو سزائے موت سنائی ہے، تاہم ملزمہ کی عمر اور گرفتاری کے مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ بیرقدار کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزمہ نے جرمنی سے شام اور پھر عراق کا سفر کرنے کا اعتراف کیا۔ اس کے ساتھ 2 بیٹیاں بھی تھیں جن کی شادی دہشت گرد تنظیم کے ارکان سے ہوئی۔

واضح رہے کہ عراقی عدلیہ نے ستمبر 2017 میں پہلی مرتبہ داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک روسی جنگجو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اسے موصل شہر کو واپس لینے کے لیے ہونے والے معرکے کے دوران گرفتار کیا گیا۔جولائی 2016 میں جرمن عدلیہ نے اعلان کیا کہ عراقی حکام نے موصل میں داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر جرمن لڑکی کو گرفتار کیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.