افغان امن کے لئے انڈونیشیا، افغانستان اور پاکستان کے علما پر خصوصی کمیٹی کے قیام پر اتفاق

اسلام آباد: افغان امن کے لئے انڈونیشیا، افغانستان اور پاکستان کے علما پر خصوصی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے ، یہ اتفاق صدر مملکت ممنو ن حسین اور انڈونیشیاکے صدر جوکو ویدودو کے درمیان ملاقات میں ہوا ہے ،دونوں سربراہان مملکت نے ملاقات میں افغانستان میں امن کیلیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا  اور کہا ہے کہ خطے میں ترقی و خوشحالی کے لیے وسط ایشیا اور افغانستان میں امن ضروری ہے، جس کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔

دونوں سربراہان مملکت نے ان خیالات کا اظہارایوان صدر میں ملاقات میں کیا ۔ انڈونیشیاکے صدر جوکو ویدودو کے اعزازمیں ایوان صدر میں عشائیہ دیا گیا ۔ ایوان صدر کے مرکزی دروازے پرانڈونیشیا کے صدرجوکو ویدودو اور ان کی اہلیہ محترمہ ایریانا ویدودو کاصدر مملکت ممنون حسین اور خاتون اول بیگم محمودہ حسین نے استقبال کیا، اس موقع پر ننھے بچوں نے معز ز مہمانو ں کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا عالمی معاملات میں ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں اور انھیں خوشی ہے کہ انڈونیشیا اس سلسلے میں ہمارا ہم خیال ہے اور ہم سے مل کر کام کرنے خواہش مند ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ انڈونیشیا کے صدر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ افغانستان میں امن کے سلسلے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم انہیں خوشی ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے انڈونیشیا، افغانستان اور پاکستان کے علما پر مشتمل ایک کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی پیش کی جس سے صدر پاکستان ممنون حسین  نے اتفاق کیا۔ ملاقات میں دونوں سربراہان نے دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتقاق کیا اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دونوں برادر ملک تجارت اور دفاعی شعبے میں تعلقا ت کے فروغ کے لیے بھر پور تعاون کریں گے۔ملاقات میں دونوں صدور نے تجارت، سرمایہ کاری اوراقتصادی تعاون کے شعبے میں فروغ پر زور دیا ۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ بڑھتی ہوئی تجارت ، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافہ ہمارے تعلقات کی بنیاد ہونا چاہیے ۔صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ملکوں کے دفاعی تعلقات میں اطمینان بخش پیشرفت ہو رہی ہے،مجھے خوشی ہے کہ دوطرفہ دفاعی معاہدے کے تحت سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں،ہم توقع کرتے ہیں کہ اس معاہدے کے تحت جلد ہی مشترکہ کمیٹی قائم ہو جائے گی اور معاہدے کے نکات پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا،دونوں ملکوں کی بری اور بحری افواج کے درمیان براہ راست بات چیت اور مشترکہ مشقیں باہمی تعاون میں اضافے کا ذریعہ بنیں گی،دونوں ممالک دفاعی پیداوار کے سلسلے میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔بات چیت کے بعد صدر مملکت نے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ملاقات میں ملاقات میں انڈونیشیا کے وزیر اقتصادی امورکے کوارڈینیٹر ڈارمین نوسیشن، وزیرخارجہ محترمہ ریٹنو ایل پی مرسودی، وریز تجارت اینگرٹیسٹو لوکیتو اور سفیرایوان سیودی امری اور پاکستانی وفد میں وزیر تجارت محمد پرویزملک ، وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سمیت اعلی سطحی وفد شامل تھا۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ،سینیٹر راجہ ظفر الحق اور سروسز چیفس سمیت عشائیہ میں وزرا، اراکین پارلیمنٹ، پارلیمانی قائدین اور زندگی کے مختلف شعبوں کی نمایاں شخصیات شریک تھی۔ عشائیہ کے بعد پاک فوج کے بینڈ نے دونوں ملکوں کی مقبول دھنیں بجائیں جس سے مہمان صدر اور دیگر مہمان محضوظ ہوئے اور فنکاروں کو ان کی عمدہ پرفارمنس پر انھیں داد دی اور ہاتھ ملائے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.