Daily Taqat

بھارت کی دہشتگردی انتہاکوپہنچ گئی، آزاد کشمیرکے وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکے ہیلی کاپٹر پرفائرنگ

اسلام آباد: بھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے ہیلی کاپٹر پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب گاؤں کے سفر کے دوران فائرنگ کی گئی۔ذرائع  کے مطابق وزیر اعظم آزاد کشمیر جو 2 وزرا اور اپنے ذاتی اسٹاف کے ہمراہ ہیلی کاپٹر میں سوار تھے، عباس پور گاؤں کے قریب بھارتی فوج کے حملے سے بال بال محفوظ رہے۔مذکورہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راجہ فاروق حیدر اپنی کابینہ کے اراکین کے ساتھ ایک وزیر کے بھائی کی وفات پر تعزیت کے لیے جارہے تھے۔واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گفتگو کی تھی اور پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا تھا۔ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے بتایا کہ یہ واقعہ دوپہر 12 بج کر 10 منٹ پر پیش آیا۔واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں کہوٹہ میں اپنے ایک وزیر کے بھائی کی وفات کی تعزیت کے لیے گیا تھا جہاں ایل او سی سے ملحقہ علاقے میں مقامی افراد سے ملاقات بھی کی جب ہم عباس پور گاؤں سے گزرے تو بھارتی فوج نے ان کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی۔ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے ہم اور ہیلی کاپٹر محفوظ رہا، ہم زیرو لائن کے بے حد نزدیک لیکن اپنی حدود میں تھے اور چوں کہ یہ ایک سویلین ہیلی کاپٹر تھا لہٰذا بھارت فوج کو اس پر فائرنگ نہیں کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے بتایا کہ سرحد کے دونوں اطراف آرمی کے ہیلی کاپٹر اڑان بھرنے سے قبل باضابطہ طریقہ کار کے تحت ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں لیکن یہ ایک سویلین ہیلی کاپٹر تھا تو اس لیے جارحانہ کارروائی کا کوئی جواز نہیں تھا۔وزیراعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس علاقے میں متعدد مرتبہ سفر کرچکے ہیں لیکن اس سے قبل ایسا کوئی واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ پاکستانی حکومت کے ساتھ اٹھائیں گے تا کہ اس حوالے سے مناسب اقدامات کیے جائیں۔دوسری جانب آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے نیویارک سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے وزیراعظم کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے بھارت جارحانہ رویے اور جنگی عزائم کی عکاسی ہوتی ہے بھارتی حکومت اور فوج کی اس طرح کی مذموم حرکات کا مقصد مسئلہ کشمیر اور وہاں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کی چالوں اور دھمکانے کی کوششیں ترک کر کے پر امن طریقے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔اس کے ساتھ انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے واقعے کی تفصیلات کے بارے میں دریافت کیا اور ان کی محفوظ واپسی پر اطمینان کا اظہار کیا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »