عدالت میں درخواست دی گئی کہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا یا جائے :سابق وزیر اعظم

جڑانوالہ:سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ آج کل سنتے ہیں کہ وہ جج یہ فیصلہ کرنے کے لیے پھر بیٹھیں گے کہ نواز شریف کی نا اہلی پانچ سال کے لیے ہوئی یا زندگی بھر کے لیے ،وہ زندگی بھر کے لیے بھی نا اہل کردیں تو کیا عوام سے رشتہ توڑ سکیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے عوام سے کوئی دور نہیں کر سکتا ،یہ کیسے نواز شریف کو نا اہل کر سکتے ہیں ،قوم یہ فیصلہ مسترد کردے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں درخواست دی گئی ہے کہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا یا جائے ،قانون بنا ہوا ہے جو ہم نے بنا یا ہے ،یہ کس طرح سے قانون کو ختم کر سکتے ہیں ،اگر ایسا ہوا تو قوم خود نوٹس لے گی اور سارے فیصلے مسترد کر کے واپس کردے گی ۔
جڑانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں ایک بار پھر انتشار پھیل رہا ہے ،دنیا پاکستان کو میلی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ،ڈرون حملے پھر شروع ہو گئے ہیں ،جب میں وزیراعظم تھا تو بار ک اوبامہ سے کہا تھا کہ پاکستان خود مختار ملک ہے ،کوئی ملک پاکستان میں ڈرون حملہ نہیں کرسکتا ،اس کے بعد ڈرون حملے بند ہو گئے ،ہم نے پاکستان کو خودمختار ملک بنا یا ۔انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان بنانے کے نعرے لگانے والوں نے اس ملک کو کیا دیا ،کے پی کے سے جا کر پوچھو ،انہوں نے صرف بہتان تراشی اور الزامات کی سیاست کی ،ہم نے تعمیری کام کرائے ۔نواز شریف نے کہا کہ محترم ججوں نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا ،آپ کو ان کے قصے معلوم ہیں ،واہ بھئی واہ ،صادق اور امین اسطرح کے ہوتے ہیں ؟۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.