زینب قتل کیس میں سنسنی اور سنگینی پیدا کرنے والے صحافی مشکل میں

زینب قتل معاملےپرگرفتار ملزم عمران علی کے حوالے سے جو کارروائی ہو گی سو ہو گی تاہم اس معاملے میں مبینہ طور پر بڑھا چڑھا کر سنگینی اور سنسنی پیدا کرنے والے معروف پاکستانی صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود پر خود ان کی صحافی برادری کے سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ شاہد مسعود نے دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار ملزم کے 37بینک اکائونٹس ہیں۔اس کا تعلق چائلڈ پورونوگرافی کی کسی بین الاقومی تنظیم سے ہے۔ اس کی پشت پناہی دو وفاقی وزرا کررہے ہیں ۔ اور ملزم مختلف قسم کی بین الاقومی کرنسی کی ٹرانزکیشن کرتا رہاہے۔ تاہم سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملزم کے شناختی کارڈ کے ذریعے اس کے بینک اکائونٹس کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ اس کا کوئی بھی بینک اکائونٹ نہیں ہے ۔ اسی طرح ڈاکٹر شاہد مسعود آج پنجاب

حکومت کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے۔ اس ساری صورتحال پر سینئر صحافی حامدمیر نے براہ راست ان کا نام لےکر ان کو تنقید کا نشانہ تو نہیں بنایا لیکن ان کے دعووں کے بالکل برعکس دعوے سامنے لے کر آئے۔ اینکر غریدہ فاروقی نے تو ان کو چھکا مارنے کی کوشش کرنے والا قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر ڈالا۔ اینکر ثنا میر نے بھی ان کے بیان کو من گھڑت اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا اور رائے لی کہ کیا ان پر تاحیات پابندی لگائی جائے ۔ تجزیہ کار صابر شاکر نے قدرے مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوںنے جو بات کہہ دی اس سے آگے کچھ نہیں کہنا چاہیے اور اپنی بات پر اڑنا نہیں چاہیے۔ ان کے مطالبے پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا ۔اگر نہ لیتی تو سوال اٹھتا کہ ایک شخص ایک بات کہہ رہا تو اس کو کیوں نہیں سنا جارہا۔ دوسری بات یہ کہ اس معاملے کو آئی ایس آئی، آئی بی، این آئی، ایف آئی اے اور خود چیف جسٹس دیکھ رہے تھے۔ اس بارے میں کوئی بھی بات پوری ذمہ داری سے کی جائے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.