معصوم زینب کے قتل کیس میں اہم پیش رفت, 2 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیاگیا

معصوم زینب کے قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس کے مطابق 2 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جنہوں نے اس سارے واقعے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔  انکشاف یہ ہوا ہے کہ یہ لوگ جس مکان میں رہتے تھے، وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر زینب کی لاش ملی تھی۔زینب کی لاش ملنے کے مقام سے چند قدم کے فاصلے پر واقعہ مکان محمد رانجھا کا ہے جسے بابا رانجھا بھی کہا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ مکان اس جگہ پر ہے جہاں سے بچی کی لاش ملی تھی۔ پولیس نے بھٹہ چوک سے گرفتار ہونے والے عمر کی نشاندہی پر پہلے آصف نامی شخص کو گرفتار کیا اور پھر بابا رانجھا کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔یہ علاقہ گجر کالونی کی طرح کا ہے جو روحی نالے کے اوپر ہے جبکہ اس مکان میں گرفتار ہونے والے افراد کے والد اختر اور بھائی مختار بھی رہائش پذیر ہیں۔ مکان انتہائی بوسیدہ حالت میں ہے اور علیحدہ علیحدہ چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ زینب کو یہاں تین دن تک رکھا گیا اور پھر اس کی لاش منتقل کی گئی۔علاقہ مکینوں کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد کی شہرت اچھی نہیں ہے اور باقاعدہ روزگار کا سلسلہ بھی نہیں تھا ۔ سارا دن اِدھر اُدھر ہی گھومتا رہتا تھا اور کبھی وہاں بیٹھ گیا تو کبھی وہاں بیٹھ گیا۔“زینب کو آصف نامی شخص نے بازار سے زینب کو اغواءکر کے عمر نامی شخص کے حوالے کیا جس کے بعد زینب کو تین دن تک بابا رانجھا کے گھر پر محصور رکھا گیا۔ تمام ملزمان کی شناخت علی نامی شخص نے کی جبکہ اس کیس میں گرفتار سیکیورٹی گارڈ کو رہا کر دیا گیا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.