زینب سے پہلے قتل ہونے والی ایمان فاطمہ کے والد نے ایسی کہانی بیان کر دی کہ ملزم عمران کا سارا کیس ہی مشکوک ہو گیا

قصور میں ایک سال قبل زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی ایمان فاطمہ کے والد نے اپنی بیٹی کے قتل کے شبے میں مارے جانے والے مدثر نامی نوجوان کے قتل کی ایسی کہانی بیان کر دی ہے کہ سب ہی قصور پولیس کی پھرتیوں پر حیران و پریشان رہ جائے گی ،واضح رہے کہ ننھی زینب کے سفاک قاتل عمران کا ڈی این اے معصوم ایمان فاطمہ سےبھی میچ کر گیا ہے جس کی وجہ سے یہ کیس مزید الجھ کر رہ گیا ہے کیونکہ اگر مدثر قاتل تھا تو پھر زینب کے قاتل عمران سے ایمان فاطمہ کا ڈی این اے کس طرح میچ کر گیا؟ اور اگر سفاک عمران علی ہی ایمان فاطمہ کا قاتل ہے تو پھر مدثر کو پولیس نے کیوں اور کس بنیاد پر قتل کیا گیا ؟۔

نجی ٹی وی کے مطابق خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قصور میں ایک سال قبل زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی ایمان فاطمہ کے والد کا  کہنا تھا کہ میری بچی آئس کریم لینے گھر سے باہر نکلی تو اس کے چند گھنٹے بعد اس کی لاش مل گئی ،جب میری بچی کی لاش ملی تو میں اپنے رشتہ داروں ،اہل محلہ اور قصور کے شہریوں کے ساتھ مل کر احتجاج کے لئے سڑک پر آ گئے تو اسی اثنا میں ایک ڈی ایس پی آیا جس کا نام غالبا عارف مرزا تھا تاہم یہ کنفرم نہیں ہے ، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ایمان فاطمہ اکیلی گھر سے نکلی تھی ؟جس پر میں نے کہا کہ نہیں وہ اپنے ساڑھے 6 سالہ کزن کے ساتھ چیز لینے گئی تھی ، جس پر اس نے کہا کہ وہ بچہ جو ایمان فاطمہ کے ساتھ گیا تھا وہ کہاں ہے ؟میں نے اسے کہا کہ وہ اس وقت گھر میں ہے ،جس کے بعد پولیس والے تقریبا 9 ساڑھے نو بجے کے قریب میرے گھر چلے گئے اور میرے ساڑھے چھے سالہ بھتیجے کو لے کر اس گلی میں چلے گئے جہاں سے ایمان فاطمہ غائب ہو گئی تھی،اس ساڑھے چھے سالہ بچے نے پولیس کو مدثر کا  گھر دکھایا اور کہا کہ ایک آدمی اس گھر میں ایمان فاطمہ کو لے کر سیڑھیاں چڑھ گیا تھا، اس موقع پر وہاں دو ڈھائی سو افراد جمع تھے جنہیں پولیس نے پوچھا کہ یہ گھر کس کا ہے ؟وہاں مدثر آ گیا اور ساڑھے چھے سالہ بچے نے پولیس کے سامنے مدثر کی شناخت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندہ ایمان فاطمہ کو لے کر گیا تھا ،بچے کی شناخت کے بعد پولیس نے مدثر کو ایک دوسری جگہ پر کھڑا کر کے میرے  ساڑھے 6 سالہ بھتیجے کو پھر شناخت کرنے کا کہا اور اس نے دوسری مرتبہ بھی مدثر کو شناخت کر لیا جس کے بعد پولیس مدثر کو گرفتار کر کے لے گئی ۔ایمان فاطمہ کے والد کا کہنا تھا کہ مدثر کی گرفتاری کے بعد ہم ابھی احتجاج کر رہے تھے ،ساڑھے گیارہ بجے کے قریب میرے بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ پولیس کہہ رہی ہے کہ بندہ مان گیا ہے ،اب  روڈ کھولتے ہوئے

احتجاج ختم کر دیں  تاہم میں روڈ  پر ہی لوگوں کے ساتھ بیٹھا رہا ۔رات تین بجے کے قریب ایک گاڑی آئی پولیس کی اور سب کی مشاورت کے ساتھ مجھے تھانہ صدر لے گئے ،تھانے پہنچنے کے بعد پندرہ بیس منٹ بعد پولیس کو پھر کال آئی اور پولیس ڈی ایس پی مجھے بی ڈویژن تھانے میں لے گئے وہاں ڈی پی او علی ناصر رضوی بیٹھا ہوا تھا جس نے مجھے گلے لگایا اور روتے ہوئے کہا کہ آپ کی بیٹی کا نام ایمان فاطمہ ہے جبکہ میری بیٹی کا نام بھی ایمان فاطمہ ہے ، اللہ تمہیں ضرور انصاف دے گا ۔تھانہ بی ڈویژن میں ہی مدثر اندر بھیٹھا ہوا تھا جہاں پولیس نے مجھے اس سے ملوایا ،مدثر نے میرے سامنے میری بیٹی کو مارنے کا اعتراف کیا اور مجھ سے اللہ واسطے معافی مانگی جس پر میں خاموشی کے ساتھ اٹھ کر باہر آ گیا ۔صبح پولیس والوں نے مجھے بتایا کہ ہم صبح مدثر کو جائے وقوعہ کی شناخت کے لے کر گلیوں میں سے لے کرجا رہے تھے کہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور گولی لگنے سے مارا گیا ۔واضح رہے کہ قصور میں اغوا کے 5 روز بعد قتل ہونے والی ننھی زینب کے قتل نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا ،ملک گیر احتجاج کے کئی روز گذرنے کے بعد پولیس نے عمران نامی ملزم کو گرفتار کیا جس نے نہ صرف ننھی زینب کے قتل کا  اعتراف کیا بلکہ اس کا ڈی این اے قصور میں ہی اغوا اور زیادتی کے بعد قتل ہونے والی دیگر 8 بچیوں سے بھی میچ کر گیا ، اب اس ’’ کہانی ‘‘ کے بعد ہمارے پولیس کے تفتیشی سسٹم پر کئی سوالات اٹھ گئے ہیں ،پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایمان فاطمہ اور ننھی زینب سمیت دیگر 8 بچیوں کا قاتل عمران ہے اور اس کا ڈی این اے بھی ان مقتول بچیوں سے میچ کر گیا ہے ،اگر یہ سچ ہے تو پھر پولیس نے ایمان فاطمہ کے قتل کے الزام میں جس مدثر نامی نوجوان کو مارا وہ کیا تھا ؟اور اگر اس  کیس میں مارا جانے والا مدثر ہی ایمان فاطمہ کا اصل قاتل تھا تو پھر ننھی زینب کے سفاک قاتل کا ڈی این اے ایمان فاطمہ سے کیسے میچ کر گیا ؟ اس ساری صورتحال نے کیس میں نئے شکوک و شبہات پیدا کرتے ہوئے ہمارے نظام انصاف پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.