اختیارات کا ناجائز استعمال، چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ریاض حمید چوہدری سے استعفیٰ لے لیا گیا

سرکاری گاڑیوں کا استعمال ' ورکرز کی ہڑتالیں 'کنٹریکٹرز معاملات میں مداخلت' کمپنی سے تقریبا 4ارب کی ادائیگیاں کروانے کے الزامات ہیں

لاہور(سی اے ایس ) پنجاب حکومت نے چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ریاض حمید چوہدری سے کنٹریکٹرز کو مشکوک ادائیگیاں کروانے، اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے ، انتظامی امور میں بے جا مداخلت کرنے اور کمپنی کے وسائل کو غیر قانونی طور پر ذاتی استعمال میں لانے پر استعفی لے لیا ہے۔ روزنامہ طاقت کی تحقیقات کے مطابق پنجاب حکومت نے ریاض حمید چوہدری کو پنجاب حکومت نے جولائی 2019میں بطور چیئرمین بورڈ اف ڈائریکٹر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی تعینات کیا تھا ۔ پنجاب حکومت نے مئی 2020میں کمپنی کا 11رکنی بورڈ دوبارہ قائم کیا جس میںچار سرکاری افسران شامل تھے باقی نجی سیکٹر سے منتخب کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ریاض حمید چوہدری کو دوبارہ چیئرمین تعینات کیا۔ کمپنی ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین بورڈ اف ڈائریکٹر نے کمپنی کے ہیڈ افس میںمستقل بیٹھنے کے لئے ایک کمرہ بطور دفتر فلی فرنشڈ کروایا اور کمپنی کی دو سرکاری گاڑیاں اپنے استعمال میں لے لی جبکہ کمپنی رولز کے مطابق ایک گاڑی استعمال میں رکھ سکتے تھے جبکہ چیئرمین کا مستقل دفتر نہیں ہوتا۔ پنجاب حکومت نے جب نیا بورڈ تشکیل دیا تو اس حکم نامے میں ریاض حمید چوہدری کو بطورچیئرمین تعینات کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا جبکہ پبلک سیکٹرز کمپنیز رولز 2013کے تحت چیئرمین کا انتخاب بورڈ ممبران خود کرتے ہیں۔ ان رولز کے مطابق چیئرمین کا اختیار ہے کہ وہ دیکھے کہ بورڈ مناسب طور پر کام کررہا ہے ، بورڈ کی میٹنگز کو یقینی بنائے اور کیا بورڈ ممبران بورڈ مکمل طورفیصلوں میں شریک ہورہے ہیں کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ چیئرمین نے مبینہ طور پر کمپنی میں ورکرز کی ہڑتالیں کروائی، کنٹریکٹرز کے معاملات میں ملوث ہوئے اور ان کو کمپنی سے تقریبا 4ارب کی ادائیگیاں کروائیں جس پر کمپنی اور کنٹریکٹرز کے درمیان فرانزک آڈٹ کی وجہ سے تنازعہ چل رہا تھا۔ چیئرمین نے مبینہ طور پر کمپنی کے انتظامی و مالی امور میں مداخلت بھی کی اور کمپنی کے فرانزک آڈٹ رپورٹ کے برعکس کچھ لوگوں کو مالی فائدہ بھی دیا ۔چونکہ چیئرمین کو پنجاب کے ایک طاقتوار بیورکریٹ کی معاونت حاصل تھی کیونکہ ریاض حمید چوہدری نے بطور ایم ڈی پیسک ان کی بیٹی کو گریڈ 17میں نوکری دی تھی جس کی وہ سے وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے رہے۔پنجاب حکومت کو اس حوالے سے ایک ادارے نے رپورٹس فراہم کی کہ چیئرمین اپنے اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے ان سے استعفی لے لیا ۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے 2011 میں دو بین الاقوامی صفائی کی کمپنیوں کے ساتھ لاہور میں صفائی کا معاہدہ کیا تھا جس پر عمل درآمد 2012میں مرحلہ وار شروع ہوا تھا ۔ اس کنٹریکٹ کے مطابق شہر کو دو زون میں تقسیم کیا گیا تھا ہر زون سے صفائی کی کمپنی نے 60لاکھ ٹن سالڈویسٹ سات سال کی مدت میں اٹھانا تھا۔مارچ 2020میں کمپنیوں کے معاہدہ ختم ہونے پر پہلے ایک ماہ کی توسیع کی گئی لیکن بعد میں دو ماہ کی توسیع کی گئی جبکہ اب بورڈ اف ڈائریکٹرز نے معاہدہ میں دسمبر 2020تک توسیع کردی ہے ۔ ستمبر 2018میں صوبائی حکومت کے احکامات پر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا فرانزک آڈٹ ہوا جس میں انکشاف ہوا کہ مختلف مد میںدونوں کمپنیوں کو 50کروڑ کی زائد ادائیگیاں کی گئی ہیں جن میں بوگس ورکرز کی خدمات لینے، نان سویپنگ سٹاف کو دھوکہ دہی سے 9 کروڑ 82لاکھ کی ادائیگی، ریکوری اف انکم ٹیکس اون بہاف اف بین الاقوامی کنٹریکٹرز کی مد میں 4 ارب 64کروڑ ، 25/26دن کی سیلری کی مد میں ایک ارب 10کروڑ 80لاکھ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی جبکہ پرفارمنس گرنٹی کی مد میں 16کروڑ اور میٹرو ٹرین کا ناکارہ ملبہ کو اٹھانے کی مد میں 10کروڑ زائد ادائیگی کی نشاندہی بھی کی گئی۔ کمپنی نے دونوںکنٹریکٹرز کے درمیان ادائیگیوں پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جس میں چیئرمین نے اپنا کردارادا کرکے کچھ ادائیگیاں کروائی جن پر سوالات اٹھے تھے ۔ریاض حمید چوہدری نے رابط کرنے پر بتایا کہ انہوں نے خود استعفی دیا ہے وہ جتنی دیر چیئرمین رہے انہوں نے کمپنی کی بہتری کے لئے کام کیا۔ مشکوک ادائیگیوں اور انتطامی امور میں مداخلت پر انہوں نے کہا کہ رولز کے مطابق چیئرمین کے پاس کوئی مالی وا انتظامی اختیار نہیں ہے یہ الزامات ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے بطور چیئرمین استعفی دیا ہے جبکہ وہ بطور ممبر بورڈ اف ڈائریکڑ کام کرتے رہیں گے۔ تعیناتی پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کو لگایا تھا ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.