افتخار الحسن کی وفات، پیپلزپارٹی کا این اے 75 پر میدان خالی نہ چھوڑنے کا اعلان

اعجاز چیمہ کو پی ٹی آئی کی ٹکٹ ملنے کی صورت میں پیپلزپارٹی ان کے بھتیجے قلب حسین چیمہ کو میدان میں اتاریگی

ضمنی انتخابات کے حوالے سے قمرالزمان کائرہ ‘اسلم گل اور چوہدری منظور کی باہمی مشاورت سے فیصلہ طے پایا گیا

لاہور:  پیپلز پارٹی این اے 75 کا میدان خالی نہیں چھوڑے گی ، اعجاز چیمہ کو پی ٹی آئی کی ٹکٹ ملنے کی صورت میں پیپلزپارٹی ان کے بھتیجے قلب حسین چیمہ کو میدان میں اتارے گی۔ پیپلز پارٹی پنجاب نے این اے 75 ڈسکہ کے ایم این اے سید افتخار الحسن المعروف ظاہرے شاہ کی وفات کے بعد حلقہ کے متوقع ضمنی انتخابات کے حوالہ سے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی ہدایت پر پنجاب کے صدر قمرالزمان کائرہ ، سینئر نائب صدر چوہدری اسلم گل اور جنرل سیکرٹری چوہدری منظور احمد کی باہمی مشاورت سے طے پایا کہ پیپلز پارٹی این اے 75 ڈسکہ سے ضمنی انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی بالخصوص پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں جانے والے اعجاز احمد چیمہ کو اگر پی ٹی آئی نے ٹکٹ دی تو پھر پیپلز پارٹی ان کے بھتیجے نوجوان وکیل اور گوجرانوالہ ڈویڑن کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قلب حسین چیمہ کو ان کے چچا اعجاز چیمہ کے مدمقابل کھڑا کریں گے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق پیپلز پارٹی اگر اعجاز چیمہ کے مدمقابل قلب حسین کو الیکشن لڑاتی ہے تو پی ٹی آئی کیلئے سیٹ جیتنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا کیونکہ قلب حسین چیمہ اعجاز چیمہ کے چھوٹے بھائی کے بیٹے ہیں اس طرح نہ صرف ان کے خاندان کے علاوہ جٹ برادری بلکہ ان کے نواحی گاؤں میترانوالی سمیت پورے حلقہ میں سے ان سے محبت کرنے والے تذبذب کا شکار ہو جائیں گے اس طرح توقع کی جا رہی ہے کہ سیٹ مسلم لیگ ن حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ این اے 75 ڈسکہ میں سیاسی سروے کے مطابق لوگوں کا کہنا ہے کہ 2018 ئ کے عام انتخابات میں صرف ایک گاؤں میترانوالی سے اعجاز چیمہ نے اپنے پورے خاندان سمیت بھر پور کوشش کرکے پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی کو چھ سو جبکہ قلب حسین چیمہ نے اکیلے کوشش کر کے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو تین سو ووٹ ڈلوائے تھے۔ حلقہ کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اگر این اے 75 ڈسکہ سے کامیابی حاصل کرنی ہے تو ٹکٹ کا فیصلہ بڑی سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ رابطہ کرنے پر قلب حسین چیمہ نے بتایا کہ میرا ابھی الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اگر پارٹی قیادت نے حکم دیا تو مجھ سے انکار نہیں ہو سکے گا پھر میں الیکشن ضرور لڑوں گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.