اگر ترجیحات یہی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ہی ہمارے ملک کی حفاظت کرے“۔

دبئی : پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویزمشرف نے کہاہے کہ پاکستان کو قطر کیخلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ساتھ دینا چاہیے تھا ، ان کے ان بیانات کی وجہ سے انہیں خبروں کی شہہ سرخیوں میں جگہ مل رہی ہے ۔ اپنی والدہ اور بیگم کے ہمراہ ڈاﺅن ٹاﺅن دبئی کے ایک اپارٹمنٹ میں 74سالہ سابق آرمی چیف اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویزمشرف نے ایک خصوصی انٹرویو میں مقبوضہ بیت المقدس کے بارے میں امریکی فیصلے ، پاکستان اور اس کے وسیع ترمعاملات کے بارے میں گفتگو کی ۔ پرویزمشرف نے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین کیساتھ مل کر قطر کی مخالفت نہ کرنے پر حکومت پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ” میں حیران ہوں کہ پاکستانی حکومت نے قطرمعاملے میں کیا کیا، قطرنے کبھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا اور یہ ثابت ہوچکا ہے ، دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں ہمیشہ سے ہی پاکستان کے بڑے دوست رہے ہیں، ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرناچاہیے جو دونوں ممالک کیخلاف ہو، دونوں ممالک ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے اور ہمیں بھی ان کی دوستی کا حق ادا کرنا چاہیے “۔پاکستان کی حکمران جماعت کے قطر میں کاروبارکا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ”ذاتی کاروباری مفادات کی وجہ سے وسیع مفادات نظرانداز کردیئے گئے ، اگر ترجیحات یہی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ہی ہمارے ملک کی حفاظت کرے“۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.