ہمارے مطالبات نہ پورے ہوئے تو اگلا دھرنہ وزیراعلیٰ پنجاب ہاوس کے باہردیں گے

لاہور: امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد کہتے ہیں کہ گنے کے کسانوں کو ریلیف دینے اور شوگر مل مالکان کے خلاف پورے پنجاب کے کسان متحد ہوچکے ہیں۔ اگر حکومت پنجاب نے کسانوں کے جائز مطالبات نہ مانے تو ہماری تحریک کے اگلے مرحلے میں وزیراعلیٰ ہاﺅس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں شوگر مل مالکان کے خلاف جماعت اسلامی کی رٹ کی سماعت کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وکیل سیف الرحمان جسرا، محمد فاروق چوہان ودیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ وہ گنے کے 180 روپے فیمن سرکاری ریٹ کے مطابق خریداری کے لئے شوگر مل مالکان کو پابند بنائے اور کسانون کی سابقہ اربوں روپے کے بقایا جات کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس ساجد محمود سیٹھی کے ہم شکرگزار ہیں کہ انہوں نے کسانوں کے اس حساس اور اہم معاملے پر حکومت پنجاب کو ہدایات کی ہیں کہ پنجاب کی تمام شوگر ملوں کو فنکشنل بنایا جائے اور جوشوگر ملیں ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ابھی تک فنکشنل نہیں ہوئیں ان کی رپورٹ اگلی سماعت کے موقع پر 28 دسمبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے احکامات دئیے تھے کہ پنجاب کی تمام شوگرملیں کسانوں سے 180 روپے فی گنا خریدیں گی اور کسانوں کے بقایا جات بھی ادا ہوں گے لیکن ابھی تک ان کے اعلانات کے مطابق کہیں بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔ صوبہ بھر کے کسان حکومت پنجاب سے مایوس ہوچکے ہیں اور ہمیں جلد انصاف فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بطور پٹیشنر جسٹس ساجد محمود سیٹھی کی عدالت میں وکیل سیف الرحمان جسرا کے ساتھ موقف پیش کیا ہے۔ کسانوں سے عدالتی احکامات کے باوجود بھی شوگر ملیں 180 روپے فی من گنا نہیں خرید رہیں۔ کسانوں کو مجبور کھائی جارہا ہے کہ 100 روپے اور 120 روپے من گنے کو فروخت کریں۔ انہوں نے کہا کہ گنے کے کسانوں کو ریلیف دینےا ور حکومت پنجاب کی بے حسی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے سلسلے میں کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ 27دسمبر کو لاہور پریس کلب کے سامنے ہوگا۔ احتجاجی مظاہرے میں پورے پنجاب سے کسان شریک ہوں گے۔ کسانوں کے مطالبات کے حل ہونے تک جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.