Daily Taqat

اگر ڈیم نہ بنا تو ہماری آنے والی نسلیں پانی کی بوند بوند کو ترسیں گی، چیف جسٹس

چیف جسٹس ثاقب نثار نے دیامر بھاشا مہمند ڈیم تعمیر عملدرآمد کیس میں ریمارکس دیئے کہ آج اگر ڈیم فنڈ کی مہم بنی ہے، تو اس میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔ ڈیم نہیں بنا تو ہماری آنے والی نسلیں پانی کی بوند بوند کو ترسیں گی۔ چیئرمین ایف بی آر بتائیں ڈیم فنڈ کی سرمایہ کاری کس جگہ کی جا سکتی ہے،  مخدوم اور ڈاکٹر پرویز حسن پروپوزل کی تیاری میں مدد فراہم کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی خصوصی بینچ نے دیامر بھاشا مہمند ڈیم تعمیر عملدرآمد کیس کی سماعت کی، عدالت نے میڈیا پر ڈیم ٹھیکے سے متعلق تنقید پر پیمرا سے جواب طلب کیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے میڈیا کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ پیمرا نے 76 ٹاک شوز کا ریکارڈ پیش کیا ہے۔ ڈیم فنڈ کی تشہیر کے لیے ٹی وی چینل اشتہار چلا رہے ہیں، میڈیا پر 13 ارب روپے کے مفت اشتہارات چلائے گئے، ہر چینل نے ڈیم فنڈ کے لیے کام کیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ ڈیم ٹھیکے پر تنقید اور واپڈا کا مؤقف نہ لیا جائے تو یہ ٹھیک نہیں، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا ایک نجی ٹی وی چینل نے اس معاملے پر ایک پورا پروگرام کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج اگر ڈیم فنڈ کی مہم بنی ہے تو اس میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، میڈیا نے حب الوطنی کے جذبے کے تحت کام کیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے غریدہ فاروقی سے استفسار کیا کہ پیپرا کامطلب کیا ہے، آگاہ کریں پیپرا کے کون سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی۔ جس پر غریدہ فاروقی پیپرا کا مطلب نہ بتاسکیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استفسار کیا آپ کو ریسرچ کون کر کے دیتا ہے، تو غریدہ فاروقی نے جواب میں کہا سر میری پوری ریسرچ کی ٹیم ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے مضرصحت مٹھائیوں کے لیے کوئی ٹیم نہیں بنائی، مٹھائیوں میں جراثیم پکڑے جائیں تو رونا دھونا شروع کردیتے ہیں، جسٹس ثاقب نثار نے غریدہ فاروقی سے استفسار کیا آپ کیا چاہتی ہیں یہ ڈیم نہ بنے۔ چیئرمین پیمرا نے کہا نجی ٹی وی کو شوکاز دے کر وضاحت مانگیں گے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا نجی چینل کا لائسنس منسوخ کریں بعد میں ریسرچ  ٹیم دیکھیں گے۔

سماعت میں اینکر غریدہ فاروقی نے کہا کہ آپ اس ملک کے مسیحا ہیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا ہمیں مسیحا سمجھا جاتا ہے تو ہمارا ساتھ دیا جائے، ڈیم کی کسی جزیات پر بات کرنا ڈیم کو روکنے کے مترادف ہے، ڈیم نہیں بنا تو ہماری کی نسلیں پانی کی بوند بوند کو ترسیں گی۔

چیف جسٹس نے اینکر سے استفسار کیا بتائیں میرٹ کا قتل کیسے ہوا، یہ الفاظ کیوں استعمال کئے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا ڈیم بڈنگ کی وضاحت ہو چکی ہے، تو ایشو کیوں بنایا؟ عدالت نے نجی چینل کو پروگرام میں وضاحت اور آئندہ احتیاط پر معاملہ نمٹا دیا۔

چیئرمین واپڈا نے عدالت کو بتایا کہ وزات توانائی نے 164 ارب روپے واپڈا کو دینے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے چیئرمین واپڈا سے مکالمے میں کہا کہ آپ ہر ماہ پیشرفت رپورٹس دیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک بیرون ملک سے فارن ایکسچینج کے ریٹس دیں۔ عدالت نے کہا  فنڈز عملدرآمد بینچ کی مرضی کے بغیر خرچ نہیں کئے جا سکیں گے۔ ٹیلی کام سیکٹر اور پانی پر ٹیکسز کے پیسے ڈیم تعمیر پر خرچ ہونے چاہیں، حکومت پروپوزل بنا کر دے واٹ رٹیکس کے پیسے کیسے ڈیم فنڈ کومختص ہوسکتے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا اس پر قانون سازی نہیں ہوسکتی، چیئرمین ایف بی آر بتائیں ڈیم فنڈ کی سرمایہ کاری کس جگہ کی جا سکتی  ہے۔ مخدوم اور ڈاکٹر پرویز حسن پروپوزل کی تیاری میں مدد فراہم کریں گے اور اس معاملے میں عملدرآمد بینچ بنائیں گے۔ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »