میں سماجی معاملات پرپارلیمنٹیرینز سے ملنے کیلئے تیارہوں، چیف جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کہتے ہیں  کہ وہ میاں رضا ربانی سے مل کر رہنمائی لینا چاہتے ہیں، اگر پارلیمنٹیرینز میرے پاس آنا چاہتے ہیں تو بےشک آئیں سماجی معاملات پر پارلیمنٹیرینز سے ملنے کیلئے تیارہوں۔
زینب قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے سینیٹر اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اختیار سے تجاوز نہیں کرسکتے ایسا قانون بنایا جائے جس سے ملزمان کو سزائیں مل سکیں، اعتزاز احسن زینب کے معاملے کو اٹھاتے ۔ بدقسمتی سے طیبہ اور زینب جیسے واقعات کی روک تھام کاقانون نہیں بنایاگیا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ اورپارلیمنٹ کے درمیان اجنبیت ختم کرناچاہتے ہیں قانون میں نقائص دورکرناہم سب کی ذمہ داری ہے ہم سب نے مل کر یہ کام کرنا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی سے مل کر رہنمائی لینا چاہتے ہیں ، اگر پارلیمنٹیرینز میرے پاس آنا چاہتے ہیں تو بےشک آئیں سماجی معاملات پر پارلیمنٹیرینز سے ملنے کیلئے تیارہوں کیونکہ یہ کام افراد نے نہیں اداروں نے مل کر کرنا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.