Daily Taqat

یہ پوچھنا کون سا گناہ ہے کہ کرپشن کیسے ہوئی کہاں ہوئی؟: چیئرمین نیب

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نوٹس آپ کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دیا جاتا ہے، ادب سے پوچھتے ہیں کہ جو رقم خرچ کی وہ کہاں کی، یہ پوچھنا کون سا گناہ ہے کہ کرپشن کیسے ہوئی کہاں ہوئی؟ کوئی یہ سمجھتا ہےکہ یہ پوچھناجرم ہےتو یہ جرم ہوتارہےگا۔

پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ قومی ادارے کا نوٹس ڈنر کا دعوت نامہ نہیں ہوتا، یہ صورتحال ہمارےملک کےمفادمیں ہے، کرپشن کومزیدبرداشت نہیں کیاجاسکتا، اندھیرےختم ہونےتک کوئی درد رکھنےوالا پاکستانی اطمینان کاسانس نہیں لےسکتا، نیب کی کسی کےساتھ ذاتی دشمنی نہیں،نیب کی وفاداری پاکستان کے مفادات کے لیے ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب کے سارے اقدامات ریاست کے مفاد میں ہیں، یہ نہیں دیکھا کس کا کیس ہے، نیب کے لیے اس بات کی اہمیت نہیں کہ نیب کے سامنے کون ہے اور کون نہیں، آج تک ہر قدم آئین اور قانون کے تحت اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو شوق نہیں کہ تھانیداری کرے یا بلا وجہ تفتیش کا آغاز کرے، پاکستان کو84 ارب ڈالر کا قرضہ ادا کرنا ہے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »