راؤ انوار کیسے فرار ہوا سپریم کورٹ نے وضاحت مانگ لی

سپریم کورٹ رجسٹری میں نقیب اللہ قتل کیس سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثارنے نجی طیارے سے راؤ انوارکے فرار ہونے پر سوال اٹھادیا۔ نجی ایوی ایشن کمپنیوں کو دوروزمیں حلف نامے جمع کروانے کا حکم بھی دے دیا گیا۔نقیب اللہ قتل کیس کی

سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ کہیں راؤ انوار فرارتو نہیں ہو گیا۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن ذرا بتائیں گے کہ نجی طیارے کہاں کہاں گئے؟کہیں راؤٴ انوارکسی نجی طیارے سے فرارتونہیں ہوا؟ ۔ عدالت نے نجی کمپنیوں کو دوروزمیں حلف نامے جمع کروانے کا بھی حکم دے دیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل ڈائریکٹر سول ایوی ایشن کویاد دلایا کہ راؤ انوارملک سے فرار ہونے کی کوشش کرچکا ہے۔ چھ نجی آپریٹرز ہیں اور نو طیارے ہیں۔چیف جسٹس نے یہ بھی پوچھا کہ بحریہ والوں کے پاس کتنے طیارے ہیں؟جس پرایڈیشنل ڈائریکٹر سول ایوی ایشن نے بتایا کہ بحریہ کے پاس تین اوراومنی کے پاس ایک طیارہ ہے۔چیف جسٹس کے سوالوں پرآئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ جی ممکن ہےہوسکتا ہے راؤ انوار فرارہوچکے ہوں


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.