شہباز شریف حدیبیہ کیس میں کیسے بچ نکلے ،مسلم لیگ ن رہنما

اسلام آباد : معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا  ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس سے متعلق نیب کی جانب سے دائر کی گئی اپیل سپریم کورٹ نے خارج کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کی اپیل خارج ہونے پر جہاں مسلم لیگ ن کو خوشیاں منانی چاہئیں وہیں مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے احاطہ عدالت میں ہی توہین عدالت کی ہے۔جبکہ ان کے ساتھ ساتھ مصدق ملک نے بھی عدلیہ کے خلاف بیان بازی کی جیسے کہ وہ یہ چاہ رہے ہوں کہ بس کوئی انہیں توہین عدالت کے جُرم میں گرفتار کر کے لے جائے۔ ان کے لفافوں نے بھی  عدلیہ کو گالیاں دیں۔حدیبیہ کیس کی اپیل تو خارج ہو گئی لیکن ہوا یہ کہ ان کو کچھ نہیں ملا ۔ عدالت کو چاہئیے کہ نیب کے چئیرمین قمر زمان چودھری کو حفاظتی تحویل میں لے کر پوچھ گچھ کرلیں۔بلکہ نیب کے گذشتہ تمام سربراہان کو بلا لینا چاہئیے جنہوں نے مبینہ طور پر شریف خاندان کی مدد کی ہے۔ نیب کی اپیل پر عدالت نے کہا کہ اپیل زائد المیعاد ہےجبکہ اصل بات یہ ہے کہ مقدمہ ہی کمزور ہے، انہوں نے عدالرت کے اندر مقدمہ ہی کمزور بنا کر پیش کیا، پراسیکیوٹر جنرل ریٹائر کے جب ہونے کا وقت آیا تو حدیبیہ کھول دیا ، عدالت نے کہا کہ حدیبیہ پر ٹی وی چینلز پر بحث نہیں ہو سکتی ،جس کی بلا شبہ عدالت کے پاس بہت سی وجوہات ہوں گی۔عدالت نے کہا کہ اپیل کا وقت گزر چکا ہے تو اپیل خارج کر دی۔ لیکن مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا غصہ عمران خان کے فیصلے پر نہیں بلکہ حدیبیہ کی اپیل خارج کرنے پر نکلا ہے کیونکہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ چاہے کوئی بھی وزیر اعظم بن جائے لیکن شہباز شریف وزیر اعظم نہ بنیں۔ اسی لیے ان کو یہ بات بھائی ہی نہیں کہ شہباز شریف حدیبیہ کیس میں بچ کر نکل گئے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.