ہندو،سکھ اور دوسرے مذاہب کی پاکستان کی قومی مچھلی کی پوجا

لاہور: پاکستانی دریاؤں میں ایک ایسی مچھلی بھی پائی جاتی ہے جس میں لفظ شیر آتا ہے اور غیر معمولی طور پر دریاؤں میں شیروں کی طرح راج کرتی ہے اس مچھلی کا نام  مہاشیر ہے جو پاکستان کی قومی مچھلی بھی ہے۔ یہ میٹھے پانی کی مچھلی  ہے،کھانے میں انتہائی لذیذ ہے۔سندھ کے ماہی گیروں کے مطابق مہاشیر کی نسل دریاوں کے خشک ہونے سے اب کم  ہوتی جارہی ہے۔

خیبر پختون خواہ میں واقع دریاؤں میں سنہری رنگ کی مہاشیر چھوٹی مچھلیوں کو کھاجاتی ہے اور یہی اسکی غذا بھی ہے۔ بلوچستان کے شمال مشرقی حصوں میں ایک دوسری نوع کی مہاشیر بھی دریافت ہوئی ہے جو ’ژوبی مہاشیر ‘ کہلاتی ہے۔ یہ پاکستان کی ’خاص الخاص ‘ مچھلی ہے کیونکہ صوبہ سرحد اور بلوچستان کے سوا کہیں اور نہیں ملتی۔ پاکستان میں اسے ابھی تک پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر سے ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ یہ مچھلی سنہری مہاشیر سے ملت جلتی ہے مگر اس کی مونچھیں بڑی بڑی ، چانے نسبتاً چھوٹے اور سر قدرے چپٹا ہوتا ہے۔ یہ مچھلی دریائے ژوب سے دریافت ہوئی ہے اس لیے اسے ژوبی مہاشیر کا نام دیا گیا۔ اسے دریائے گومل، دریائے کرم اور دریائے کابل میں دیکھا جا چکا ہے۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ مہاشیر ہندووں اور سکھوں کے لیے انتہائی متبرک مچھلی ہے۔ گوردوارہ پنجہ صاحب، حسن ابدال میں بڑی بڑی مہاشیر مچھلیاں تالابوں میں موجود ہیں۔ اسی طرح ہندووں کے متبرک مقامات کے نواح میں مہاشیر بکثرت پالی جاتی ہے۔ بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک مقام ’نال‘ ہے۔ وہاں سے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران مٹی کے برتن دریافت ہوئے ہیں۔ ان برتنوں پر ’مہاشیر ‘ کی خوبصورت تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قدیم تہذیب کے لوگ بھی اس مچھلی کو متبرک سمجھتے تھے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.