محتسب کشمالہ طارق کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر ہائیکورٹ نے تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواتین محتسب کشمالہ طارق کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کشمالہ طارق کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی، درخواست کی پیروی کے لئے رائے قیصر عباس ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کشمالہ طارق کی تعیناتی کے خلاف درخواست دائر کرنے سے پہلے ریسرچ کی ہے؟ تو قانونی نقطہ عدالت کو بتایا جائے۔رائے قیصر عباس ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق محتسب کیلئے ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج یا سینئر وکیل ہونا ضروری ہے، کشمالہ طارق کا نہ تو وکالت کا تجربہ ہے اور نہ ہی ریٹائرڈ جج ہیں۔وکیل نے مزید کہا کہ کشمالہ طارق نے ماضی میں خواتین کے حقوق کے لئے کوئی خدمات انجام نہیں دی اس لئے ان کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔

یاد رہے گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں خواتین محتسب کشمالہ طارق کی تعیناتی چیلنج کی گئی تھی، درخواست میں موقف اپنایاگیا تھا کہ محتسب کیلئے ہائیکورٹ جج کا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے ، کشمالہ طارق کاوکالت کاتجربہ ہےنہ خواتین کےحقوق کیلئے خدمات انجام دیں۔

درخواست گزار نے استدعا کی تھی کشمالہ طارق کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جائے۔دائر درخواست میں صدر کے سیکرٹری ، ڈپٹی سیکرٹری وزارت قانون و انصاف ، سیکرٹری وفاقی محتسب سیکرٹریٹ اور کشمالہ طارق کو فریق بنایا گیاتھا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.