نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 23جنوری تک ملتوی

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت نےنیب ریفرنسز کی سماعت 23جنوری تک ملتوی کر دی۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں استغاثہ کے تین گواہان کوآئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف تیرہویں بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن رٹائرڈ صفدر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت شروع ہوتے ہی فلیگ شپ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب ناصر جنجوعہ نے اپنا بیان قلمبند کرایا جن پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح مکمل کی۔فلیگ شپ ریفرنس میں سماعت کےدوران استغاثہ کے گواہ ناصر جنجوعہ اور عمر دراز کے بیانات قلمبند کیے گئے، نیب پراسیکیوٹر نے وکیل خواجہ حارث پر گواہ سے ایک ہی سوال باربار پوچھنے کااعتراض کیا۔وکیل خواجہ حارث نے استغاثہ کے گواہ ناصر جنجوعہ سے سوال کیا کہ اگست 2017 میں آپ کیا کر رہے تھے ،انہوں نے جواب دیا کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب راولپنڈی تعینات تھا۔وکیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ فلیگ شپ کی انکوائری میں شامل تھے، ناصر جنجوعہ نے جواب دیا کہ فلیگ شپ انکوائری میں شامل تھا، 21 اگست 2017 کو شہباز حیدر نے چوہدر شوگر ملز کا ریکارڈ فراہم کیا اور انویسٹی گیشن آفیسر نے بھی فلیگ شپ میں میرا بیان ریکارڈ کیا۔وکیل خواجہ حارث نے استفسار کیا کہ کیا اس کے علاوہ بھی کوئی کارروائی ہوئی جس پر گواہ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ میرے سامنے مزید کوئی کارروائی ہوئی نہ ہی بیان ریکارڈ ہوا اور یہ ساری کارروائی 21 اگست 2017 کو ہوئی۔استغاثہ کے دوسرے گواہ عمر دراز گوندل نے بھی اپنا بیان قلمبند کرادیا جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح بھی مکمل کرلی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.