Daily Taqat

عدالتی فیصلے کے بعد حامد میر نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا، کے پی کے پولیس اور حکومت کو شرم سے پانی پانی کر دیا

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے مشال قتل کیس میں 26 افراد کے بری ہونے پر حیرانی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل یقین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کیس کی تفتیش پراسیکیوشن صحیح نہیں ہوئی اور اسے عدالت میں ٹھیک طرح سے پیش نہیں کیا گیا۔

اگر اس معاملے میں تحریک انصاف کے چند لوگ ملوث ہیں اور انہیں بچانے کیلئے بہت سے لوگوں کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے تو یہ ناانصافی ہے اور اس سے پی ٹی آئی حکومت کو سیاسی نقصان بھی ہو گا لیکن میرا مقصد کسی کا نقصان یا فائدہ نہیں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔
حامد میر نے کہا کہ ”اس کیس میں ویڈیو فوٹیج بہت واضح ہے اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جو باآواز بلند مشال خان کیخلاف بات کر رہے ہیں بلکہ اپنے جرم پر فخر کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی گمراہی کے باوجود ایک بے گناہ انسان کو ناصرف قتل کیا بلکہ اس کے بعد جشن بھی منایا اور پھر قسمیں بھی کھائیں اور وعدے بھی کئے لیکن اس میں سخت سزا صرف 6 لوگوں کو ملی ہے اور ایک شخص جو مطلوب ہے اور ابھی تک فرار ہے اور اس کا تعلق بھی صوبے کی حکمران جماعت سے ہے، وہ ابھی تک نہیں ملا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کیس میں مفرور لوگوں کو گرفتار کیا جانا چاہئے تھا، اور تمام لوگوں کو بڑی سزا ملنی چاہئے تھی۔
میں یہ نہیں کہتا کہ سب لوگوں کو سخت ترین سزا دی جاتی لیکن ان میں سے اکثر افراد کو تین سے چار سال کی سزا تو ملنی چاہئے۔ اس کیس کی پراسیکیوشن اور تحقیقات صحیح نہیں ہوئیں اور اس کیس کو صحیح طریقے سے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ آپ اس فوٹیج میں دیکھ سکتے ہیں کہ کون لوگ ہجوم کو بھڑکا رہے ہیں اور کن لوگوں نے اس سارے مظاہرے کو آرگنائز کیا، یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کر بہت سی تفصیلات بتائی تھیں اور پھر مشال خان کے کچھ ساتھیوں نے بھی بہت کچھ بتایا۔ جتنے ثبوت موجود ہیں، انہیں سامنے رکھیں تو 26 ملزمان کا بری ہونا میرے لئے بہت حیران کن ہے۔
یہ خیبرپختونخواہ حکومت کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے اور انہیں اس پر ایک موقف لینا چاہئے کیونکہ اگر تحریک انصاف کے چند لوگ ملوث ہیں اور انہیں بچانے کیلئے بہت سے لوگوں کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے تو یہ ناانصافی ہے اور اس سے پی ٹی آئی حکومت کو سیاسی نقصان بھی ہو گا۔ مگر میرا مسئلہ کسی کا نقصان یا فائدہ نہیں بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں کیونکہ ایک شخص کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔

اس گروہ کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ کون ملوث ہے اور کون نہیں۔ اس کیس میں صرف نادرا کی مدد لے کر ہی بہت اہم پیش رفت کی جا سکتی ہے مگر صرف 6 لوگوں کو سزا ہوئی ہے اور 26 لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ میرے لئے یہ ناقابل یقین ہے کہ ان کی شکلیں سب کو نظر آ رہی ہے تو جج صاحب کو کیوں نظر نہیں آئی۔“


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »