[wp_news_ticker_benaceur_short_code]

سینئرصحافی حامد میر کے حکومتی کابینہ کے لئے گئے انٹرویو میں اہم انکشافات

[mashshare]

اسلام آباد : سینئر صحافی  حامد میر نے اپنے آج کے کالم میں لکھا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ناکامی کا خوف ان کے کچھ پرانے اور وفادار ساتھیوں کو تیزی کے ساتھ گھیر رہا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک وفاقی وزیر تشویشناک لہجے میں بتا رہے تھے کہ وہ صبح 9 بجے دفتر آتے ہیں اور رات 10 گیارہ بجے سے پہلے فارغ نہیں ہوتے۔ سارا دن دفتر میں کام کرنے اور اپنی جیب سے منگوایا ہوا فاسٹ فوڈ کھا کھا کر وزن بڑھتا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حامد میر نے اپنی تحریر میں لکھا کہ میں نے وزیر سے پوچھا آپ دفتر میں اتنا وقت کیوں گزارتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہمارا لیڈر اور وزیراعظم بھی دفتر میں اتنا ہی وقت لگاتا ہے۔ سوال کیا کہ اگر وزیراعظم اور ان کی کابینہ روزانہ چودہ پندرہ گھنٹے کام کر رہی ہے تو حکومت کی کارکردگی میں بہتری کیوں نظر نہیں آ رہی؟ وزیر صاحب نے فٹ سے جواب میں کہا ”حامد بھائی یہی تو مسئلہ ہے۔ ساری کابینہ چودہ پندرہ گھنٹے کام کرے تو کیا نہیں ہو سکتا لیکن ہم صرف پانچ یا چھ وزراءہیں جو جنون کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ ہم ناکام ہو گئے تو ہمارا خان ناکام ہو جائے گا اور خان ناکام ہو گیا تو پھر ہم گئے کام سے“۔ پوچھا کہ صرف پانچ چھ وزیر صاحبان زیادہ کام کیوں کرتے ہیں؟ ہمارے دوست وزیر صاحب نے محتاط لہجے میں کہا کہ باقی وزراءبھی کام کرتے ہیں لیکن وہ شام چار پانچ بجے کے بعد دفتروں میں نہیں بیٹھتے کیونکہ ان کی سیاسی بقا عمران خان کی کامیابی سے مشروط نہیں عمران خان ناکام ہو جائیں، فارغ ہو جائیں تو ہمارے کئی ساتھی وزراءکو فرق نہیں پڑتا، وہ پچھلی حکومتوں میں بھی شامل تھے، موجودہ حکومت میں بھی شامل ہیں اور آئندہ جو بھی حکومت ہو گی اس میں بھی شامل ہو جائیں گے لیکن ہم عمران خان کی وجہ سے حکومت میں آئے ہیں اور اس کے ساتھ چلے جائیں گے اور اسی خوف کی وجہ سے ہم زیادہ کام کرتے ہیں۔اس گفتگو سے پتہ چلا کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ دو گروپوں میں تقسیم ہے۔ ایک گروپ ان کے پرانے ساتھیوں پر مشتمل ہے جو 2011ءسے پہلے تحریک انصاف میں آئے تھے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.