حکومت پنجاب نے 200ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان کڈنی و لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹرل” بنادیا ” اب کسی کو بھی انڈیایابیرونی ممالک جانے کی ضرورت نہیں

لاہور: وہ مریض جو  گردوں اور جگر کے  مرض سے دو چارہیں انہیں اس بیماری کے علاج و معالجہ کلئے انڈیا یا  دوسرے کسی بیرونی ممالک جانا پڑتا ہے۔ مگر اب پاکستان میں ہی ان بیماریوں سے نپٹنے کیلئے حکومت پنجاب نے 200ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان کڈنی و لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹرل بنایاہے ۔

تفصیلات کے مطابق200ملین ڈالر لاگت سے بننے والا پاکستان کڈنی و لیور انسٹی ٹیوٹ پورے صوبے کے تمام اضلاع میں ہیپاٹائٹس سے بچاﺅکی احتیاطی تدابیر اور علاج کیلئے کلینکس بنائے گا۔چند روزپہلے وزیراعلیٰ پنجاب نے تعمیرکے آخری مراحل میں موجود منصوبے کے مقام پردورہ کیا اور کام کی رفتار اور مریضوں کو فراہم کی جانیوالی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اس تعمیراتی منصوبہ میں ساری لاگت حکومت پنجاب کے سر پر ہےاور اس میں کوئی بھی بیرونی ہا تھ کام نہیں کر رہے اور نہ ہی کسی کی سپورٹ شامل ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح انشاءاللہ 25دسمبر کو ہونے کا امکان ہے ۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.