اہم خبرِیں
پنجاب میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم افغانستان، جیل پر حملہ، تین افراد ہلاک، متعدد قیدی فرار بینکوں کے معمول کے اوقات کار بحال آدم علیہ السلام کے بعد کعبہ شریف میں عبادت کرنے والی واحد خاتو... امریکی خلا باز زمین پرواپس پہنچ گئے کورونا کیسزگھٹ کر25 ہزار172 رہ گئے عشرئہ ذو الحجہ اورعیدا لاضحی کے فضائل واحکام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، شاہ محمود قریشی ملک میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد 25 ہزار رہ گئی افغانستان، صوبہ لوگر میں خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک حجاجِ کرام آج رمی جمار اور قربانی میں مصروف مریخ کے پہلے راؤنڈ ٹرپ پرخلائی گاڑی "پرسویرینس" روانہ افغان حکومت کے بعد طالبان کا بھی تمام قیدی رہا کرنے کا اعلان پی ایس ایل بورڈ اور فرنچائزز کے تعلقات کشیدہ بیٹی نے قبر کشائی کر کے والد کی میت نکال لی راجن پور، سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 دہشت گرد ہلاک درگاہ عالیہ گولڑہ شریف پیرشاہ عبدالحق گیلانی انتقال کرگئے پی ٹی اے نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی عیدالاضحٰی کی تعطیلات کے دوران موسم کی صورتحال

گھوٹکی ٹرین حادثے کو پندرہ سال بیت گئے

لاہور (خصوصی رپورٹ) بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے ذہن میں نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ٹرین حادثہ آج سے تقریباً پندرہ سال قبل پیش آیا جس کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ آج سے تقریباً 15 برس قبل لاہور سے کراچی جانے والی کوئٹہ ایکسپریس اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوئی۔ لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کی جستجو لئے اپنے سفر کی طرف روانہ ہوئے۔ زندگی کا سفر رواں دواں تھا کہ اچانک کوئٹہ ایکسپریس میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی جس پر اسے گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے سٹیشن پر مرمت کے لئے روک لیا گیا۔ مرمت کا کام جاری تھا کہ پیچھے سے آنے والی نائٹ کوچ (کراچی ایکسپریس) صبح ساڑھے چار بجے کے قریب اس سے جا ٹکرائی۔ اتفاق سے اسی وقت دوسرے ٹریک پر کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ایکسپریس گزر رہی تھی۔ نائٹ کوچ مرمت کے لیے کھڑی کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرا کر پٹڑی سے اتر گئی اور سامنے سے آنے والی تیزگام ایکسپریس سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں تیزگام ایکسپریس کی بارہ بوگیاں، کوئٹہ ایکسپریس کی چار اور نائٹ کوچ کی تین بوگیاں پٹڑی سے اتر کر الٹ گئیں۔یہ حادثہ نائٹ کوچ کے ڈرائیور کی غفلت سے پیش آیا کیونکہ سگنل دئیے جانے کے بعد باوجود اس نے ٹرین سرحد ریلوے اسٹیشن سے پہلے نہ روکی اور کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ طبی امداد کے لئے فوج، رینجرز اور پولیس کو امدادی کاروائیوں کے لیے طلب کیا گیا۔ علاقے کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالات کا اعلان کا کر دیا گیا۔ ایدھی سینٹر سکھر کے مطابق حادثے میں ایک ہزار سے زائد لوگ شدید یا معمولی زخمی ہوئے۔ یہ ملکی تاریخ کا پہلا اور دنیا کی تاریخ کا چوتھا ایسا حادثہ تھا جس میں دو سے زیادہ ٹرینیں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تقریباً132 بتائی گئی۔ ان مسافروں میں کچھ تو ایسے ہوں گے جو اپنے عزیزوں سے سالوں بعد ملنے جا رہے ہوں گے جبکہ ان میں کچھ کاروباری لوگ اور دیگر لوگ بھی شامل ہوں گے جو اس حادثے کا شکار ہو گئے۔ یہ واقعہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش آیا۔ اس حادثے میں کل سترہ بوگیاں (گاڑی کے ڈبے) متاثر ہوئے۔



یہ بھی سنا گیا کہ یہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ بوگیوں سے لاشوں کو کاٹ کر نکالا گیا۔ اس حادثے میں ایدھی سروسز نے اپنی خدمات بھرپور طریقے سے پیش کیں۔ یہ حادثہ چند برس قبل سکھر ضلع میں ہونے والے سانگی حادثے جیسا ہی تھا جس میں کافی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.