سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام

سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، تاہم انہیں حراست میں نہیں لیا گیا۔ راؤ انوار کا کہنا ہے کہ ملک سے باہر جانے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق راؤ انوار کے این او سی پرشک کےباعث انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دستاویزات میں 20 جنوری کو جاری کیا گیا سندھ حکومت کا این او سی بھی تھا۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ نے راؤ انوار کی دستاویزات کو شک کی بنا پر مسترد کردیا گیا، راؤ انوار نے اپنی سفری دستاویزات ایک ساتھی کے ذریعے ایئرپورٹ بھجوائیں۔

دوسری جانب شاہ لطیف ٹاؤن پولیس مقابلے میں نقیب محسودکےساتھ دیگر3ملزمان کی ہلاکت کی بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ڈی آئی جی ایسٹ سلطان خواجہ نےتینوں ملزمان کےکرمنل ریکارڈ کےلیے پنجاب، بلوچستان، کےپی، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اوراسلام آباد کےآئی جیزکےنام خط لکھ دیا جبکہ سندھ کےتمام ڈی آئی جیز کو بھی تینوں ملزمان سے متعلق معلومات دینے کا کہا گیا ہے۔

مقابلےمیں مارے گئے نذرجان اور نسیم اللہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کے رہنے والے تھے۔

سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے 13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسودسمیت چار ملزمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے نقیب اللہ کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

نقیب محسودکے اہل خانہ نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دے دیا تھا جس کے بعد نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور چیف جسٹس پاکستان نے بھی معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا جبکہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

راؤ انوارنے سینٹرل پولیس آفس میں انسانی حقوق کمیٹی اور آئی جی سندھ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا جبکہ انہیں ایس پی انویسٹی گیشن ٹو کے دفتر میں بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کیا گیا ہے مگر وہ وہاں بھی پیش نہیں ہوئے۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دیا گیا اور پولیس پارٹی کے سربراہ راؤ انوار کو معطل کرکے گرفتار کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی گئی تھی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.