بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو نہیں دبا سکتے، پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو نہیں دبا سکتے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاوٴن کو آج 437 دن ہو چکے ہیں، اس دوران متعدد نوجوانوں کو شہید اور زخمی کیا جاچکا ہے، بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو نہیں دبا سکتے، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، کلبھوشن کیس میں بھارت کو نظرثانی صرف پاکستانی عدالت سے ہی مل سکتی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت نے 18 لاکھ جعلی ڈومیسائل جاری کیے جو کہ کشمیر پر عالمی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو فوری روکا جائے سارے عمل کو واپس پلٹایا جائے، مقبوضہ کشمیر میں حالات پلٹنے اور سازگار ماحول کے قیام تک بھارت سے بامعنی مذاکرات ناممکن ہیں۔

زاہد حفیظ نے بتایا کہ مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے بھارتی صحافی کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں جن شرائط کا ذکر کیا ہے بھارت سنجیدہ ہے تو ان پر غور کرے، معید یوسف نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا غیر انسانی محاصرہ بند کیا جائے، سیاسی قیدی رہا کیے جائیں اور پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کا سلسلہ ختم کیا جائے، ہم مسلسل کہہ رہے ہیں کہ بھارت مذاکرات کے لیے سازگار ماحول تیار کرے اور کشمیریوں کا اس سارے عمل سے باہم منسلک رہنا بہت ضروری ہے، مذاکرات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند نہیں ہوتی اور کشمیریوں کو بھی ان میں شرکت کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا۔

ترجمان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایک مسلسل جاری عمل ہے، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر بڑی حد تک عمل کر لیا ہے، 27 ضروری اقدامات میں سے پاکستان نے 21 ضروری اقدامات مکمل کر لیے ہیں، اب وقت ہے کہ ایف اے ٹی ایف بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے معاملات کا بھی نوٹس لے، آیندہ فروری میں بھارت کا میوچل ایویلیو ایشن ریویوو ہونا باقی ہے، بھارت کے 44 بینکوں کے منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہونے پر امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف اس ریویوو میں جائزہ لے گا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن کا حامی ہے اور تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، ہم نے ہمیشہ افغانوں کے زریعہ افغانوں کے لیے امن عمل کی حمایت کی ہے، ہم یقین رکھتے ہیں کی افغان امن عمل کو کامیاب بنانے کے لیے تمام شراکت داروں سے بات چیت ضروری ہے۔

زاہد حفیظ نے کہا کہ پاک چین دوستی کے حوالے بھارتی بیانات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، پاکستان بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے بیان کی سختی سے مذمت اور تردید کرتا ہے، بھارت کو ایسی زبان استعمال نہیں کرنا چاہیے جو کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے فائدہ مند نہ ہو۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کا انتخاب جیتا، پاکستان کو کونسل میں 192 میں سے 169 ووٹ ملے، پاکستان کا دوبارہ منتخب ہونا اس کے انسانی حقوق ایجنڈے پرعالمی برادری کا اعتماد ہے، انسانی حقوق کونسل کو بھارت کی جانب انسانی حقوق کی کلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.