وفاقی کابینہ اورقومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل ہو گاجس میں امریکی صدر کے بیان پرغورکیاجائے گا

واشنگٹن / اسلام آباد:  پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کے بعد امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا اور احتجاجی مراسلہ حوالے کیا ، دفتر خارجہ میں امریکی سفیر پر واضح کیا گیا کہ امریکی صدر کا اربوں ڈالر کا بیان بالکل غلط ہے ، امریکی صدر کے بیان کی وضاحت پیش کی جائے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ملاقات کی جس میں ٹرمپ کے بیان پر غور کیا گیا جبکہ وفاقی کابینہ کا اجلاس آج (منگل کو ) اور قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل (بدھ کو) طلب کرلئے گئے ہیں جس میں ، امریکی صدر کے بیان ، سفارتی اور سیکورٹی پالیسی پر غور ہوگا جبکہ وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی طرف سے بریفنگ دی جائے گی۔اس سے قبل فوجی ترجمان میجرجنرل آصف غفور نے 2017ء کی اپنی آخری پریس کانفرنس میں ایسی دھمکیوں کاذکر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہمیں دھمکیا ں مل رہی ہیں ہمیں ایک قومی بیانیے پر متحد ہونا ہوگا، پاکستان کے معاملے پر ہم سب ایک ہیں ہم نے 2؍ مسلط کی گئی جنگیں لڑیں ، نومور کا کہہ چکے اور اب کسی کیلئے مزید ڈو مور نہیں ہوگا۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے اپنے پہلے پیغام میں ایک بار پھرپاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان جھوٹا اور دھوکےباز ہے ، ہم نے 15سال میں 33؍ ارب ڈالر (تقریباً 36؍ کھرب پاکستانی روپے) دے کر بیوقوفی کی ، پاکستان ہمارے رہنماؤں کو بیوقوف سمجھتا ہے اور پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں معمولی مدد ملتی ہے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا جبکہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو جواب دیا جائے گا ، جلد دنیا کے سامنے سچائی رکھیں گے، حقیقت اور فسانےمیں فرق بتائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے سال 2018ء کا پہلا ٹوئٹ ہی پاکستان سے متعلق کیا جس میں انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈونلڈٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا نے پاکستان کو گزشتہ 15؍ سال کے درمیان 33 ؍ ارب ڈالر امداد دیکر بے وقوفی کی جبکہ بدلےمیں پاکستان نےہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا اور ہمارے رہنماؤں کو بے وقوف سمجھا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں مزید کہا کہ ہم افغانستان میں جن دہشت گردوں کوتلاش کرتے ہیں پاکستان انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، لیکن اب مزید ایسا نہیں چلے گا ۔ علاوہ ازیں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے سماجی ویب سائٹ پر امریکی صدر کے بیان کے ردعمل میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سچائی پوری دنیا کے سامنے لے کر آئیگا اور امریکی صدر کے الزام کا بھی جلد جواب دیں گے‘ دنیا کوبتائیں گےکہ حقیقت اور افسانے میں کیافرق ہے۔ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے 2017ء کی اپنی آخری پریس کانفرنس میں ایسی دھمکیوں کاذکر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہمیں دھمکیا ں مل رہی ہیں ہمیں ایک قومی بیانیے پر متحد ہونا ہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کے معاملے پر ہم سب ایک ہیںہم نے دو مسلط کی گئی جنگیں لڑی ہیں اور اب کسی کیلئے مزید ڈو مور نہیں ہوگا۔ پیر کی رات کو پاکستان نے امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان پر امریکا سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا احتجاجی مراسلہ سپرد کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان پر وضاحت پیش کی جائے کیونکہ اس جنگ میں اخراجات کولیشن فنڈز سے کئے جاتے تھے۔ امریکی سفیر پر واضح کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان پاکستانی قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے امریکی سفیر اور سیکرٹری خارجہ تمہینہ جنجوعہ کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں سیکرٹری خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.