وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ سکینڈل کے لئے انکوائری کمیشن کی منظوری دے دی

اسلام آباد:وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی،تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیدی جس کے سربراہ جسٹس (ر) عظمت سعید ہوں گے،ایک رکنی براڈشیٹ کمیشن صرف جسٹس (ر) عظمت سعید پر مشتمل ہوگا اور کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت تشکیل دیا جائیگا، کمیشن نہ صرف براڈ شیٹ کے معاملے کی جامع تحقیقات کریگا بلکہ حدیبیہ پیپر ملز ،سرے محل کی بھی انکوائری کریگا،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاانکوائری کمیشن کیلئے عظمت سعید موزوں ترین امیدوار ہیں،کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا، کرپشن کرنیوالوں کو بے نقاب کیا جائیگا، براڈ شیٹ کے معاملے میںکسی کو نہیں چھوڑوںگا، معاملہ بہت حساس ہے، مکمل انکوائری ہوگی،کابینہ اجلاس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور ایف نائن پارک اسلام آباد کے عوض سکوک بانڈز اجراء کیلئے وزارت خزانہ کی سمری پر بھی بحث ہوئی تاہم کابینہ نے ایف 9 پارک کی زمین کے بدلے سکوک بانڈز کے اجراء کی سمری مسترد کردی،وفاقی کابینہ نے قرض لینے کیلئے بطور ضمانت ایف نائن پارک کی بجائے اسلام آباد کلب کو گروی رکھنے کی منظوری دیدی، ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں ایک رکن نے طنزیہ تجویز دی ایوان صدر میں کیا ہوتا ہے؟ اسے گروی رکھ دیں،وزیراعظم عمران خان نے ایف نائن پارک کو گروی رکھنے کی مخالفت کرتے ہوئے سیکرٹری فنانس سے کہا عوام کیلئے بنایا گیا ایف 9 پارک گروی رکھوانے کی تجویز کیوں آئی؟، سیکرٹری فنانس نے سکوک بانڈز پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا اسلامی بانڈ ہے، ماضی کی غلطیاں درست کرنے کیلئے بانڈز کا اجراء کرنے کا سوچا، گروی رکھنا صرف علامتی طور پر ہے، عملی طور پر اس سے فرق نہیں پڑتا، سکوک بانڈز کیلئے زمین کی ویلیو بھی دیکھنا پڑتی ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا مجھے پتہ ہے سکوک بانڈ کیا ہوتا ہے، عوام کے استعمال میں پارک علامتی طور پر بھی گروی نہیں ہونا چاہیے اس سے غلط تاثر گیا اگر عملی طور پر گروی رکھنا نہیں ہوتا تو وزیراعظم ہائوس کو گروی رکھ دیتے، عوام کیلئے بنایا گیا پارک گروی نہ رکھا جائے،وفاقی وزیر نے طنزاً کہا اگر علامتی ہی تھا تو پھر صدر ہاؤس رکھوا دیتے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا قرض کیلئے قومی املاک گروی نہیں رکھی جائیں گی،اجلاس میں عالمی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے التواء پر بھی بحث ہوئی، شیریں مزاری نے سوال اٹھایا پاکستان عالمی سطح پر مقدمات کیوں ہار رہا ہے؟، فواد چودھری نے کہا کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی پاکستان عالمی سطح پر ایک بھی کیس نہیں جیتا، وزیراعظم نے عالمی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے پوچھا کون کون سے کیسز زیر التواء ہیں، کیسز میں نمائندگی کن وکیلوں کے پاس ہے؟ بتایا جائے کیسز کس دور میں ہوئے، وکیلوں کو کتنی ادائیگی ہو چکی،کابینہ ذرائع کے مطابق پچھلے 5 سے 7 سال میں پاکستان مختلف مقدمات کیلئے 300 ملین ڈالرز ادا کر چکا ہے، بانی متحدہ الطاف حسین کے کیسز پر اب تک 13 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ،کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بریفنگ میں بتایافنڈ کی 500 ملین ڈالر کی رقم میں بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ، آڈٹ میں پتہ چلا 40 لوگوں کی مراعات پوری وزارت کے اخراجات کے برابر تھیں،کابینہ نے کووڈ ویکسین کی قیمت کے تعین کا اختیار وزارت صحت کو دیدیا جبکہ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی سے لیکر وزارت پلاننگ منتقل کرنے کی منظوری دیدی گئی،کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کمیشن کا مقصد براڈ شیٹ کیس کے ہر پہلو کا جائزہ لینا ہے، ملوث تمام لوگ سامنے لائے جائیں گے اگر برطانوی عدالت کے فیصلے کے تحت ادائیگی نہ کرتے تو ملک کو مزید نقصان ہوتا،براڈ شیٹ کا پی ٹی آئی سے کوئی لینا دینا نہیں ،اپوزیشن جانتی ہے عظمت سعید براڈ شیٹ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، امید ہے 45 دن میں سب کچھ سامنے آجائیگا،ووٹ خریداری کو روکنے کیلئے وزیر اعظم چاہتے تھے اوپن بیلٹ سے الیکشن ہوں اگر ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ بھی جائیں گے، بل تیار پڑا ہے ضرورت پڑی تو بل پارلیمنٹ لائیں گے، شبلی فراز نے کہا کابینہ اجلاس میں کئی اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی،براڈ شیٹ پر تحریک انصاف کے مؤقف پر مہر ثبت ہوئی،این آر او کا کلچر ملک کو پیچھے لے گیا،پہلے مصلحت کے تحت کرپشن کرنے والوں کو راستہ دیا گیا، مجبور لوگ کرپشن کرنیوالوں کو سہولت دینے پر مجبور ہوئے اور این آر او ہونے پر ملک کی اخلاقی حیثیت پر سمجھوتہ ہوتا گیا،آج کے ماحول میں کرپشن کو بڑی چیز سمجھا ہی نہیں جاتاجو کرپشن نہیں کرتا اس کو لوگ لوزر بولتے ہیں، وزیر اطلاعات نے کہابراڈ شیٹ کیس نے ثابت کیاکیسے سیاسی مصلحت کے تحت لوگوں کو راستہ دیا گیا، سودے بازی نے ملک کو بہت پیچھے دھکیل دیا،کابینہ نے براڈ شیٹ معاملے پر انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دی ،انکوائری کمیشن ریٹائرڈجج جسٹس عظمت سعید شیخ پر مشتمل ہو گا،براڈ شیٹ کمپنی کیساتھ معاہدہ ماضی کی پاکستانی حکومت نے کیا تھا،چوری کے پیسے آئے نہیں الٹا پاکستان کو پیسے دینے پڑے، براڈ شیٹ پرروزانہ 5ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑرہا تھا،امید ہے 45 دن میں سب کچھ سامنے آجائیگا، وفاقی وزیر نے کہاکابینہ اجلاس میں سینٹ الیکشن پر بھی بات چیت ہوئی ،چاہتے ہیں سینٹ الیکشن شفاف ہوں،سینٹ الیکشن میں لوگ خریدے جاتے ہیں، ووٹ خریداری کو روکنے کیلئے وزیر اعظم چاہتے تھے اوپن بیلٹ سے الیکشن ہوں اگر ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ بھی جائیں گے، وزیر اطلاعات نے کہاسکوک بانڈز کے معاملے پر بھی کابینہ میٹنگ میں بات ہوئی ،سود کو کم کرنے کیلئے اسلامک بینکنگ کو فروغ دینا ہے، انہوںنے کہاماضی میں ایئرپورٹ اور موٹرویز گروی رکھے گئے،وزیراعظم نے کہا سکوک بانڈز کیلئے ایف 9پارک کی جگہ کوئی عمارت گروی رکھی جائے ، وفاقی وزیر نے کہامعیشت کا معاملہ بھی کابینہ اجلاس میں زیر بحث آیا،معیشت پر اپوزیشن غلط بیانی کرتی ہے، جب حکومت آئی تو معیشت کی حالت بری تھی، ماضی میں حکومت نے مصنوعی طور پر ڈالر کو نیچے رکھا ،ہم نے ڈالر کو مارکیٹ پرائس پر چھوڑ دیا،ڈالر اصل پرائس پر چھوڑنے سے قرض بڑھ گئے،ڈالر کی قیمت بڑھنے پر معیشت نیچے آئی ،آئی ایم ایف جانا پڑا، بنیادی اعشارئیے مثبت جا رہے ہیں،حکومت حالات کے مطابق اچھی چل رہی ہے اس وقت کئی ممالک میں کرفیو لگا ہے،حکومت میں آئے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب ڈالر سے زیادہ تھا،اب سرپلس ہے،بجلی کی قیمت نہ بڑھائیں تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »