آئی ایس آئی کا خوف

امریکہ ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک گر کسی ایجنسی سے خائف ہیں تو وہ دنیا کی واحد ایجنسی آئی ایس آئی ہی ہے ۔یہود و نصارٰی کی ڈاکٹرائن جنگ کی حکمتِ عملی کسی عفریت کی طرح شام عراق کو خس و خاشاک کرتی ہوئی افغانستان میں داخل ہوتی ہے اور پاکستان کے دھانے پر دم توڑدیتی ہے ۔یہ کیا محض اتفاق ہے؟ پس پردہ متحرک جو عوامل ہیں ان کا نام آئی ایس آئی ہے ۔مغرب اور امریکہ میں آئی ایس آئی کے بارے میں مشہور ہے کہ آئی ایس آئی کسی کے قابو میں نہیں آتی، سپر پاورز کی نفسیات ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ ترقی پذیر اور کمزور ممالک کو کسی نہ کسی طریقے سے اپنا محتاج بنا کر رکھتی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں بلیک کرکے یا بزور طاقت اپنی بات منوائی جا سکے، یہاں یہ بات واضح رہے کہ امریکن جو پینٹاگان اور واشنگٹن میں بیٹھ کر پوری دنیا کے امور دیکھتے ہیں،یہ لوگ اپنی حتی الامکان کوشش کر چکے ہیں کہ پاکستان کو اپنی مرضی سے استعمال کیا جا سکے اور ان کے اس مقصد کی تکمیل میں آئی ایس آئی اور پاکستان آرمی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔مثال کے طور پر روس افغانستان جنگ میں امریکہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا، جواب میں پاکستان نے امریکہ کو ہی روس کے خلاف استعمال کر لیا۔ بی بی سی نے لکھاتھا کہ روس افغان جنگ کی آڑ میں آئی ایس آئی نے پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل کیا،وہ امریکہ جو سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کو تگنی کا ناچ نچاتا ہے وہ خود شکار ہوگیا جس پر امریکہ آج تک سر پیٹتا ہے۔ امریکہ افغانستان کے جنگجو سرداروں سے رابطے بڑھا کر مستقبل میں انہیں اپنے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا اس کے لئے امریکہ نے سارے جائز و ناجائز حربے استعمال کئے۔ آئی ایس آئی نے امریکہ کا یہ مشن بھی ناکام بنا دیا۔ اپنے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے آئی ایس آئی نے امریکہ کی سیاسی مداخلت کو پاکستان میں کبھی اعلانیہ اور کبھی خفیہ طور پر روکا۔ پاکستان کے مخالفین کیلئے نظریہ پاکستان اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ نظر یہ پاکستان ہی ہے جس کی بدولت پاکستانی نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام غیر مسلم اقوام سے جدا ہوکر اپنی الگ انفرادی شناخت بناتے ہیں۔ یہ انفرادی شناخت ایک طرف گلوبل ازم کے خواب دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے تو دوسری طرف بھارت سے تعلقات کیلئے ایک حد مقرر کرتی ہے۔اس نظریہ کو مسخ کرنے کیلئے عالمی سطح کی گئی کوششوں کو ہمیشہ سے آئی ایس آئی نے ناکام بنایا۔ امریکہ نے دنیا بھر کی اقوام کو یہ باور کروایا کہ پاکستان افغانستان کے اسلام پسند دہشتگردوں کو مدد دے رہا ہے۔ آئی ایس آئی نے صرف ایک حرکت کی اور عالمی سطح پر اس تاثر کو عام کیا کہ گورے جن کو اسلام پسند دہشتگرد کہہ رہے ہیں وہ اپنی آزادی کیلئے لڑرہے ہیں۔ آئی ا یس آئی نے دنیا بھر کو دہشتگردی، انتہا پسندی اور جنگ آزادی کے درمیان واضح فرق بناکر دئیے۔ بالآخر دنیا کو تسلیم کرنا پڑا کہ نہیں بالکل ویسا نہیں جیسا امریکہ بتارہا ہے کچھ پاکستان کی بھی سنو۔رپورٹ کے مطابق یہی چال بھارت نے کشمیر کے حریت پسند جنگجووں کے متعلق چلی اور کہا کہ پاکستان جیش محمد اور لشکر طیبہ کے دہشتگردوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ آئی ایس آئی تھی جس نے بتایا کشمیر میں لڑنے والے بھارت کی بربریت کی وجہ سے کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف عالمی سطح پر امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک نے اتنا شور مچایا اور پرو پیگنڈا کیا کہ گمان ہونے لگا کہ دنیا ایک چلتے ہوئے ٹائم بم کے اوپر رکھی ہوئی ہے جو کسی بھی وقت پھٹے گا اور دنیا تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ کہا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار عنقریب دہشت گردوں کے قبضے میں چلے جائیں گے اور انگریز صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ آئی ایس آئی پاکستان کے دفاع کی پہلی اور آخری لائن ہے۔ خدانخواستہ اگر آئی ایس آئی کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو نہ آپ کا ایٹم بم محفوظ ہے، نہ آپ کا نظریہ محفوظ رہتا ہے اور نہ ہی آپ کا جغرافیہ اور سرحدی وجود سلامت رہتا ہے۔ آئی ایس آئی پاکستان کے دشمنوں کی جھنجھلاہٹ، گھبراہٹ اور ندامت کی علامت ہے۔ پاکستان کے خلاف حیلے بہانے کرکے نقصان دینے والے عناصر جب اپنے مقاصد میں ناکام ہوئے تو رخ پاکستان سے ہٹاکر آئی ایس آئی کی طرف موڑ لیا گیا۔ اب ملک دشمن عناصر کا سب سے بڑا ٹارگٹ آئی ایس آئی ہی ہے ۔نفسانفسی کے اس دور میں ہمارے ملک پاکستان کا کوئی پرسان حال نہیں حکمرانو سے تو توقع کرنا ہی بے کار ہے ایسے حالات میں اگر کوئی شفاف ادارہ ہے تو وہ پاک فوج اور پاک ایجنسی ہے ۔جب بھی پاکستان پر کوئی آفت آتی ہے تو حکومت کہیں نظر نہیں آتی لیکن زلزلوں میں طوفانوں میں سیلابوں میں اور حتٰی کہ جہاں بھی لیڈروں کی گڈ گورننس کی قلعی کھل جائے، پاک آرمی ہی نظر آتی ہے اور اس سے بھی زیادہ آئی ایس آئی متحرک ہوتی ہے جو نظر تو نہیں آتی لیکن اسکے کام نظر آتے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.