ہمیں چائے خود پیزا کھائیں یہ زیادتی ہے، مولانا فضل الرحمان

مالا کنڈ: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ترجمان پاک فوج کی جانب سے پی ڈی ایم کو چائے پلانے کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

مالا کنڈ میں پی ڈی ایم کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں چائے پانی پلانے والے خود پیزا کھائیں یہ زیادتی ہے مہمان داری نہیں ہے ۔غیر جمہوری لوگوں کا الیکشن سے کیا کام؟ الیکشن دیانتداری سے نہیں کرائے گئے دیانتداری سے دھاندلی کروائی گئی۔ عمران کہتا ہے قوم میری پشت پر ہے یہ تو اعتراف ہے پشت پر کون ہے۔ فوج ایک ادارہ ہے اور غیر جانبدار ادارہ ہے۔فوج ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔عسکری قیادت کو وضاحت کرنا ہوگی کیا وہ فریق ہے اور اگر فریق ہے تو پھر احتجاج ہمارا حق بنتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملاکنڈ کا سیلاب حکمرانوں کو بہا لے جائے گا۔ ہمیں ناجائز حکمرانوں سے واسطہ ہے جنہوں نے قوم کے حق پر ڈالا ہے اور قوم اپنی امانت واپس لے گی۔ یہ تحریک جاری رہے گی ساری قوم ایک ہو کر اسلام آباد اور پنڈی جائے کا فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جعلی وزیراعظم کہتا ہے کہ ہزارہ قوم کے متاثرین بلیک میلنگ کررہے ہیں ۔کسی سے ہمدردی تعزیت نہیں کی۔ ملک میں جمہوریت نہیں ہے ضیاء الحق اور مشرف کا مارشل لاء تھا اسی طرح کا مارشل لا ہے۔ ہم م آمریت کے خلاف قوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور حقیقی جمہوریت لائیں گے۔ آئین پامال کیا گیا ہے۔ صوبے کے آئینی حقوق کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ۔اب سازشوں کو ناکام بنائیں گے صوبے کے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہوگئی ہے جیسے بی آر ٹی تباہ ہوگئی ہے ۔127 ارب روپے پر بی آر ٹی کا منصوبہ پہنچ چکا ہے۔فنی ماہرین کہتے ہیں اتنا ناکام منصوبہ ہے اسے دوبارہ توڑ کر بنانا ہوگا۔کرپشن کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ بی آر ٹی کا حساب کون دے گا، انھیں یہ نظر نہیں آتا۔ آٹا چینی میں جو کرپشن کی ہے 3سو سے چھ سو ارب روپے کا نقصان دیا گیا اور سوال نامہ مجھے بھیجنے کی بات کی جاتی ہے ، یہ سوال نامہ بھیج کر تو دیکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں دوائیاں نہیں مل رہی چار سو فیصد دوائیاں مہنگی ہوچکی ہیں۔ ایسے حکم رانوں کو سہارا دینا جرم ہے۔ جو سہارا دے رہے ہیں وہ بھی اس جرم میں شریک ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس لٹکایا گیا ہے پیسا کہاں سے آیا کس نے بھیجا انڈیا، اسرائیل سے آیا کس نے بھیجا۔ یہ اسرائیل، ہندوستان اور قادیانیوں کے پیسے ہیں۔ سرنڈر کرنا فضل الرحمان کا کام نہیں۔ پی ڈی ایم 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ کرے گی۔ 21 جنوری کو کراچی میں ملین مارچ کریں گے۔ بجائے اس کے قوم اٹھا کر کشتی کو سمندر برد کردے حکمران استعفی دے کر چلے جائیں۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک نوجوان کو پولیس نے قتل کیا اسے انصاف نہیں ملا۔ حکمرانوں کے شہر میں امن نہیں۔ اگر دہشت گردی ختم ہوگئی ہے تو فوج کو قبائلی علاقوں سے واپس بلایا جائے۔ امریکی پالیسی ہے مذہبی حلقے کو نشانہ بنایا جائے۔ عزت کے ساتھ زندگی گزارنا ہر کسی کا حق ہے۔ قوم کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کیوں نہیں دی جارہی۔ علما،کارکن،سیاسی لوگ، عوام شہید ہورہے ہیں۔ حکمران کہاں ہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبے بنانے کی بات کی جارہی ہے لیکن قبائل کو صوبہ نہیں بنایا جارہا۔ چین افغانستان ناراض ہیں۔ پاکستان سے چھوٹے ممالک ترقی کررہے ہیں اورڈوب رہا ہے تو پاکستان ڈوب رہا ہے۔ ایسے نااہل حکمرانوں کو حکمرانی کا حق نہیں۔ پارلیمنٹ کو لونڈی بنادیا گیا ہے اور ایک لونڈی پی ٹی آئی جماعت ہے۔ سربراہ پی ڈٰی ایم نے مزید کہا کہ یہ تحریک کامیاب کریں گے۔ایسی حکومت کے خلاف جدوجہد جہاد ہے ہم نے قربانی دینی ہے۔ عوام کا جذبہ پیغام ہے کہ ہم تھکے نہیں ہیں۔ جب تک حکمران ظلم کرتے رہیں گے جہاد جاری رہے گا۔

پی ڈی ایم کی مالاکنڈ میں ریلی سے چیئرمین پیپلزپارٹٰی بلاول بھٹو زرداری، ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام، محمود اچکزئی اور دیگر نے خطاب کیا۔ مالاکنڈ کے اجتماع میں مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز شرریک نہیں ہوئیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.