پاکستان میں انتہاپسندی،دہشتگردی سے خود لڑناہوگا:بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ مودی یاٹرمپ کیلیے نہیں اپنے لیے لڑرہے ہیں،انتہاپسندی اوردہشتگردی کیخلاف کھلی بحث ہونی چاہیے،ہوسکتاہے عالمی طاقتیں اپنے مفادکودہشتگردی کیخلاف جنگ پرترجیح دیتی ہوں اس حوالے سے دہشتگردی سے متعلق پاکستان کی تشویش کاحل سب کی ذمے د اری ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مودی اورنوازشریف کے دوستانہ تعلقات سے سر کاری سطح پراچھے تعلقات نہیں ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سطح پردوستانہ تعلقات ہونے چا ہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں پرہونےوالے مظالم افسوسناک ہیں پاکستان ہی نہیں دنیابھرمیں آزادصحافت حملوں کی زدمیں ہے،اسلام آبادمیں صحافیوں پرحملوں سے غلط پیغام جاتاہے۔بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ انتہاپسندنظریات کے خاتمے کیلیے کچھ نہیں کیاجارہا،دہشتگردی سے نمٹنے کےلیے نیشنل ایکشن پلان کانفاذنہیں ہورہا،پاکستان میں 4سال تک وزیرخارجہ نہیں تھا،عالمی برادری تک دہشتگردی سے متعلق پاکستان کانقطہ نظرپیش کرنامشکل تھا۔ہمیں انتہاپسند نظریات کوختم کرنےکی ضرورت ہے،ہمیں پاکستان میں انتہاپسندی،دہشتگردی سے خود لڑناہوگا،پاکستان میں دہشتگردی کیخلاف فوجی آپشنزکواستعمال کیاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف پاناماسکینڈل سے بچنے کیلیے نظام کومشکل میں ڈال رہے تھے سابق وزیراعظم نوازشریف کسی طریقے سے نظام تباہ کرناچاہتے تھے،جمہوریت کیلیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے،انتخابات جلدہوں یادیرسے پیپلزپارٹی مکمل تیارہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.