پنجاب کی اہم جیلوں میں موبائل فون کےا ستعمال سےکروڑوں روپے منتھلیاں وصول

لاہور:  آئی جی جیل خانہ جات کی عدم توجہی اور ناقص حکمت عملی کے باعث پنجاب کی اہم جیلوں میں موبائل فون کےا ستعمال سے کروڑوں روپے منتھلیاں وصول ہونے لگی، جیلوں میں لگے موبائل جیمرز جیلوں کے قریبی آبادیوں کیلئے بہت بڑا مسئلہ جبکہ جیلوں کے اندر جیمرز کے سگنل جان بوجھ کر کمزورکرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جیلوں کے اردگرد رہائش پذیر افراد ون فائیو اور ریسکیو کو بھی کال کرنے میں دقت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے کئی حادثے رونما ہوچکے ہیں، جیمرز کے سگنلرز کی ڈائریکشن جان بوجھ کر قریبی آبادیوں کی طرف کردی جاتی ہے تاکہ عوام میں یہ تاثر ہو کہ جیل میں موبائل فون استعمال نہیں ہوسکے۔

جیل میں ایک موبائل فون رکھنے کے 60 ہزار ماہانہ وصول کئے جارہے ہیں۔ پنجاب کی بعض جیلیں ایسی بھی ہیں جن کی منتھلی کروڑوں روپے اکٹھی کی جانے کا انکشاف ہوا ہے، یہ منتھلیاں جیل انتظامیہ سے آگے کس کس کو پہنچائی جاتی ہیں اس کا جلد ہی پردہ چاک کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر کی سفارش پر جونئیر افسر کی سینئر سیٹ پر تعیناتی کے بعد پنجاب کی جیلوں میں کرپشن روز بروز بڑھر ہی ہے۔ کرپشن موبائل فون استعمال کے علاوہ کس کس طریقے سے ہورہی ہے اس کا بھی جلد انکشاف کیا جائے گا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات میں جب سے نئے آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ نے اپنے عہدہ کا چارج سنبھالا ہے تب سے پنجاب کی اہم جیلوں میں موبائل فون کے استعمال کے بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے، پنجاب حکومت کی طرف سے جیلوں میں موبائل فون کےا تعمال روکنے کیلئے جیمرز لگائے گئے تھے تاکہ جیل کے اندر اس کا استعمال رک سکے، موبائل فون کا استعمال ان جیمرز کی جوہ سے کچھ عرصہ تک تو رکا رہا لیکن اب پنجاب کی اہم جیلوں میں لگے جیمرز کا رخ باہر آبادیوں کی طرف جان بوجھ کر کیا گیا ہے تاکہ عوام میں یہ تاثر رہے کہ جیل کے اندر موبائل فون استعمال نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر

باہر جیمرز کی وجہ سے موبائل سگنلز نہیں آتے تو جیل کے اندر بھی نہیں آتے ہوں گے۔ ساہیوال، جھنگ، ملتان، سنٹرل جیل فیصل آباد، میانوالی، گجرات، رحیم یار خان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سیالکوٹ، ڈی جی خان، راجن پور، سرگودھا سمیت دیگر جیلوں میں جیمرز کا رخ تبدیل کرکے موبائل فون کا استعمال بڑھنے لگا اور ایک موبائل فون رکھنے کے عوض 60 ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں۔

آئی جی جیل خانہ جات کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے محکمہ جیل خانہ جات کرپشن کا گڑھ بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اگر جیلوں کے بارے میں خفیہ انکوائری کروائیں تو انہیں موبائل فون کے استعمال کے علاوہ دیگر کئیا یسے شواہد ملیں گے جن کی وجہ سے جیلوں میں ماہانہ کروڑوں روپے کرپشن ہورہی ہیں۔ اس حوالے سے مختلف جیلوں میں تعینات افسران نے انکشاف کیا ہے کہ مختلف جیلوں میں لگے جیمرز سمیت دیگر آلات پرانے ہونے کی وجہ سے کام کرنا چھوڑگئے ہیں جس کی وجہ سے کرپشن بڑھی ہے، اگر جیمرز دوبارہ نئے سرے سے لگ جائیں تو یہ کرپشن رک جائے گی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.