Daily Taqat

یورپی یونین کے الیکشن مبصر گروپ نے2018 کے انتخابات کو شفاف قراردے دیا

یورپی مبصر مشن نے اپنی حتمی رپورٹ میں مستقبل میں بہتری کیلئے30سفارشات دے دیں، یورپی یونین کی الیکشن مبصر گروپ نے2018 کے انتخابات کو شفاف قرار دیدیا ہے، حتمی رپورٹ کے مطابق میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسرشپ، اجتماع کے حق پر پابندی، پولنگ سٹیشنوں کے اندر مسلح افواج کی موجودگیاور خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر انتخابت پر خدشات ابھرے، ووٹرز کی آگاہی کا ناقص پروگرام،بذریعہ ڈاک پولنگ کا ناقص نظام، حلقہ بندیوں میں بے قاعدگیاں اور نتائج کی ترسیلمیں شفافیت کی کمی نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات اٹھائے ہیں، الیکشن مبصر گروپ نے آئین اور الیکشن ایکٹ میں جائزے کی سفارش کی تاکہ آئندہ آنے والے انتخابات کا معیار بہتر بنایا جائے۔جمعہ کو یورپی یونین کے الیکشن مبصر گروپ نے پاکستان کے انتخابت 2018کے حوالے سے حتمی رپورٹ جاری کردی۔ الیکشن مبصر گروپ کے سربراہ رکن یورپی پارلیمنٹ مائیکل گیہلر نے پریس کانفرنس میں مشن کی حتمی رپورٹ پیش کی۔ الیکشن مبصر گروپ نے مستقبل میں انتخابی عمل کو بہتر بنانے کیلئے رپورٹ میں 30سفارشات بھی شال کی ہیں۔ مشن کے سربراہ مائیکل گیہلر نے کہا کہ مشن کی پاکستان میں موجودگی کے دوران ہمارے مشاہدات کے تجزیے اور نتائج کے علاوہ آئندہ انتخابات2023کیلئے جامع سفارشات بھی حتمی رپورٹ میں شامل کی گئی ہیں۔2013کی انتخابات کے بعد یوری یونین الیکشن مبصر گروپ نے50سفارشات پیش کی تھیں جن میں سے38پر کلی یا جزوی طور پر عملدرآمد کیا گیا۔2018کے انتخابات کے دوران مشن کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ2018کے انتخابات میں خواتین کی نمائندگی بہت کم تھی جبکہ خصوصی نشستوں پر ایک بھی معذور فرد کو نامزد نہیں کیا گیا۔2018کے بعد کئی شروکت داروں نے مبصر مشن کو مطلع کیا کہ الیکشن ایکٹ کے دوبارہ جائزے اور مزید انتخابی اصلاحات کیلئے ایک نئی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو اس حوالے سے نئی قانون سازی کرے۔تکنیکی مسائل سے قطع نظر2018کے انتخابات شفاف تھے لیکن اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔انتخابات کے بعد سیاسی جماتوں نے منظم دھاندلی کی بھی شکایات کیں جن پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے امید ہے کمیٹی تمام شکایات کو سنجیدگی سے حل کرنے کیلئے اقدامات کرے گی۔ آج پاکستان کے اندر جو سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہیں وہ پہلے حکومت میں رہ چکی ہیں اس لیے حکومتی جماعت اور اپوزیشن کو مل کر انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ انتخابات پر دھاندلی کے الزامات نہ لگائے جا سکیں۔انتخابات کے دن فارم45میں تاخیر اور سیکورٹی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشن کے اندر موجودگی پر سوالات اٹھائے گئے۔ فارم45 دینے میں تاخیر سے انتخابات کے نتائج پر خاطر خواہ فرق نہیں پڑا۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »