نواز شریف کی 10آف شور کمپنیوں کا انکشاف

برطانوی حکام نے نیب کی ٹیم کو دستاویزی ثبوت فراہم کر دئیے ، لندن میں تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کی نیشنل کرائمز ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات ، شواہد سپریم کورٹ میں پیش کئے جائیں گے.
کراچی: برطانوی حکام نے سابق پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کے بارے میں کچھ اہم شواہد پاکستانیوں کے حوالے کئے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو ( نیب ) جو کہ اب بجائے ایک بیوروکریٹ کے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کام کررہا ہے نے ایک تحقیقاتی ٹیم لندن روانہ کی تھی تاکہ نوازشریف یا شریف خاندان کے افراد کے اثاثوں کے بارے میں معلومات کی جائیں ۔ اس ٹیم نے کافی تگ و دو کے بعد کچھ ایسے شواہد حاصل کر لئے ہیں جو کہ نوازشریف کا سیاسی مستقبل تاریک کر سکتے ہیں ۔ برطانوی حکام کے مطابق نوازشریف کی مزید 10آف شور کمپنیوں کا پتہ چل گیا ہے انکے بارے میں دستاویز ی ثبوت بھی مل گئے ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیب اپنی تحقیقات کافی پیش رفت کر چکی ہے اور اب یہ شواہد سپریم کورٹ کے سامنے پیش کر دئیے جائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی جی آپریشن لندن سے وطن واپس پہنچ گئے، ٹیم کے سربراہ کی برطانوی نیشنل کرائمز ایجنسی کے سربراہ سے بھی اہم ملاقات ہوئی جبکہ نیب کی 3 رکنی تحقیقاتی ٹیم کے 2 افسران تاحال لندن میں موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق مے فیئر فلیٹس کے علاوہ بھی جائیدادیں شریف فیملی کے نام پر ہونے کا انکشاف ہوا ہے، برطانیہ کے کمپنی ہاؤس نے شریف فیملی کی 8 کمپنیوں کی تصدیق کی جن میں فلیگ شپ انوسٹمنٹ لمیٹڈ، ہرسٹون پراپرٹیز لمیٹڈ، کیو ہولڈنگ لمیٹڈ، کیونٹ ایٹن پلیس ٹو لمیٹڈ، کیونٹ لمیٹیڈ نامی کمپنی، فلیگ شپ سیکیورٹیز لمیٹڈ، فلیگ شپ ڈویلپمنٹ لمیٹڈ اورہلٹرن انٹرنیشنل لمیٹڈ شامل ہیں۔ادھر ایک اور مسئلہ کھڑ ا ہو گیا ہے ۔ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جو آج ہی ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچے ہیں۔ واضح الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ شہبازشریف مستقبل کے وزیراعظم نہیں ۔ آئندہ کے وزیراعظم کا فیصلہ پارٹی کرے گی ۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ شریف خاندان میں تنائو پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔ شہبازشریف جو گزشتہ 9سال سے پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں اور جنہیں خود نوازشریف نے مستقبل کا وزیراعظم نامزد کیا تھا نے اپنے آپ کو خادم اعلیٰ کے بجائے خادم پاکستان کہلوانا شروع کر دیا ہے وہ جگہ جگہ ایسے اعلانات اور اقدامات کرتے نظر آئے ہیں جس سے یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ انہوں نے خود کو مستقبل کے وزیراعظم کے عہدہ پر فائز کر لیا ہے ۔

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.