محکمہ ہائرایجوکیشن پنجاب نے یونیورسٹیزکے وائس چانسلرزکواجلاس میں شرکت کرنے سے روک دیا

لاہور: حکومت پنجاب نے سرکاری سطح پر ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کو مسترد کر دیا ہے اور صوبے کی تمام سرکاری یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو ایچ ای سی کے کسی بھی اجلاس میں شرکت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے تحت کل چار جنوری کو لاہور میں پاکستان کے چاروں صوبوں کی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کا اجلاس منعقد کیا جارہا ہے اس اجلاس کا پنجاب حکومت نے سرکاری طور پر بائیکاٹ کر دیا ہے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو بذریعہ فون اس اجلاس میں شرکت کرنے سے روک دیا ہے۔اس ضمن میں محکمہ ہائر ایجوکیشن نے وائس چانسلرز کے نام مراسلہ بھی جاری کیا ہے اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی ایچ ای سی اور صوبائی ایچ ای سی کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے پاس ہے اور اس پر تاحال کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔مراسلے میں وائس چانسلرز کو حکم جاری کیا گیا ہے کہ گورنر پنجاب (چانسلر) سے تحریری طور پر پیشگی اجازت کے بغیر ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے کسی بھی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ چانسلر کی اجازت کے بغیر پنجاب کی کسی بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایچ ای سی پاکستان کے اجلاس میں شرکت کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر ایچ ای سی کا بائیکاٹ کرنے پر کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے اور یہ پاکستان کو اعلیٰ تعلیم کے اہم ترین معاملے پر تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر مختار کا کہنا تھا کہ صوبائی ایچ ای سی کو مضبوط کرنے سے وفاق کی حیثیت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ہم اس طرح تقسیم ہو گئے تو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ڈگریوں کی قبولیت کا مسئلہ بھی پیدا ہونے کا اندیشہ ہوگا۔چیرمین ایچ ای سی کا کہنا تھا کہ کل لاہور میں ہونے والے اجلاس میں وائس چانسلرز کمیٹی کے افراد شرکت کر رہے ہیں اور اس اجلاس کا مقصد پنجاب ایچ ای سی کے خلاف کوئی فیصلہ کرنا نہیں تھا بلکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اس اہم ترین معاملے پر وائس چانسلرز سے بھی آراجمع کی جانی تھیں۔ ڈاکٹر مختار کہتے ہیں کہ ہمیں مل کر قومی کاز کے تحت فرائض نبھانا ہوں گے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ قومی ہم آہنگی کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا ہے کہ کل ہونے والا اجلاس شیڈول کے مطابق ہوگا اور اس اجلاس میں پاکستان کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز بھی شرکت کریں گے تاہم پنجاب سے وائس چانسلرز کی جانب سے شرکت نہ ہونے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔واضح رہے کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد ایچ ای سی پاکستان کے اختیارات اور صوبائی ایچ ای سی کے اختیارات پر قانونی جنگ جاری ہے اور اس اہم ترین قومی مسئلے کو مشترکہ مفادات کونسل کے متعدد اجلاسوں میں حل نہیں کیا جاسکا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.