لاکھوں دکھی دلوں میں اپنی خوشیاں بکھیرنے والے معین اختر کو ہم سے بچھڑے 67 برس بیت گئے

آج معین اختر کو ہم سے بچھڑے 67 برس ہوگئے ہیں۔ لیکن ان کی یاد ہر دل میں زندہ ہے۔معین اخترسے محبت کرنے والے آج بھی ان کی67 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔فن کی دنیا میں مزاح سے لیکر پیروڈی تک اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختروہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان ٹیلیویژن کی تاریخ نامکمل ہے۔

چوبیس دسمبر 1950کو کراچی میں پیدا ہونے والے معین اختر نے کیریئر کا آغاز 60ء کی دہائی کے وسط میں کیا اور ’’انتظار فرمائیے‘‘ سمیت 70ء کے عشرے کے معروف ڈراموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی اہم اسٹیج ڈراموں میں بھی اپنے فن کا جادو جگایا۔

معین اختر کو اردو، انگریزی، پشتو، سندھی ، گجرانی، پنجابی اور بنگالی سمیت کئی زبانوں پر بھی مکمل عبور حاصل تھا وہ فن کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے۔بحیثیت اداکار، گلوکار، صداکار، مصنف، میزبان اور ہدایتکار معین اختر نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

معین اختر کے یادگار ڈراموں اور اسٹیج شوز میں روزی، سچ مچ، رفتہ رفتہ، اسٹوڈیو پونے تین، بندر روڈ سے کیماڑی، شو ٹائم سمیت کئی اور شامل ہیں۔

وہ پہلے پاکستانی فنکار ہیں جن کے مجسمے کو لندن مشہور مومی عجائب گھر مادام تساؤ میں نصب کرنے کی منظوری دی گئی ۔ اس کے علاوہ معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

اپنی محنت، لگن اور عمدہ اداکاری کی وجہ سے پاکستان کے لئے فخر کا باعث بننے والے معین اختر 22 اپریل 2011 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے لیکن اپنے مداحوں کے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.