جہاں والدین ناکام ہوں وہاں عدالت بچے کی ماں باپ بن جاتی ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار

گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں والدین ناکام ہوں وہاں عدالت بچے کی ماں باپ بن جاتی ہے، والدین پیسے لے کر سمجھوتہ کر لیتے ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان کا کہناتھا کہ جن بچوں کاکوئی پرسان حال نہ ہوان کے والدین عدالت ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے رجسٹرار اسلام آبادہائیکورٹ سے کل تک رپورٹ طلب کر لی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ طیبہ تشدد کیس کا ایک سال سے ٹرائل مکمل نہیں ہوا ،بتایا جائے ٹرائل طوالت کا شکار کیوں ہے۔وکیل صفائی نے بتایا کہ ہائیکورٹ نے والدین کی صلح کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ہائیکورٹ میں ٹرائل کی کیا پوزیشن ہے؟،وکیل صفائی نے بتایا کہ 10 گواہوں کے بیانات قلمبندہوگئے،عدالت نے ٹرائل مکمل نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ سے کل تک رپورٹ طلب کر لی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.