تعلیمی ادارے اور شادی ہال آج کھل جائیں گے

لاہور: پاکستانی تاریخ کی طویل ترین بندش کے بعد ملک بھر میں تعلیمی ادارے اور شادی ہال آج سے کھل جائیں گے، پہلے مرحلے میں میٹرک، انٹر اور جامعات کے طلبہ تعلیمی اداروں کھولا جائیگا بعدازاں پرائمری کلاسز بھی کھول دی جائیں گی۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے سبب 6 ماہ قبل مارچ میں بند ہونے والے شادی ہال اور تعلیمی ادارے آج سے کھل جائیں گے۔ شادی ہال تو فوری کھل جائیں گے تاہم تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جائیں گے جس میں بڑی کلاسز پہلے اور پرائمری اسکولز بعد میں کھولی جائیں گے۔

سندھ میں منگل سے تعلیمی ادارے ساڑھے 6 ماہ بعد کھل رہے ہیں اور ابتدائی طور پر میٹرک انٹر اور جامعات کے طلباء و طالبات تعلیمی اداروں کا رخ کریں گے۔ دوسرے مرحلے میں سیکنڈری اور تیسرے میں پرائمری کے طلبہ ایس او پیز کے ساتھ اسکول جائیں گے۔

کراچی سمیت پورے سندھ میں کوویڈ 19 کا پہلا کیس 26 فروری کوسامنے آنے کے بعد تعلیمی ادارے ابتدائی طور پر 27 اور 28 فروری کو پہلی بار دو روز کے لیے بند کیے گئے تھے جس کے بعد صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں کو ایک حکم نامے کے ذریعے 28 فروری کی رات مزید 15 روز کے لیے 15 مارچ تک بند کردیا تھا۔

اسی اثنا میں پاکستان کے دوسرے صوبوں سے بھی کوویڈ کے کیسز سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو وفاقی حکومت کے سطح پر پورے ملک کے تعلیمی ادارے اسکول، کالج اور جامعات 16 مارچ سے 31مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا اور یوں ڈھائی ماہ کی مزید تعطیلات دے دی گئیں تاہم جب سندھ سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں کورونا کے کیسز کا سلسلہ نہ تھما تو تعلیمی اداروں کی بندش میں مزید تین ماہ کا اضافہ کیا گیا۔

اس دوران ابتدا میں کیمبرج بورڈ نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اے اور او لیول کے امتحانات منسوخ کرکے طلبہ کو براہ راست گریڈنگ دینے کا اعلان اپریل میں کیا جس کے بعد تمام صوبوں کی مشاورت سے وفاقی حکومت نے بھی پورے ملک میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات کی منسوخی کا اعلان کیا اور طلبہ کو براہ راست اگلی کلاس میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا اور اس کا باقاعدہ فارمولا طے کیا گیا جس کے تحت اب نتائج کا اجراء بھی شروع کردیا گیا ہے۔

اسی اثنا میں پہلے پاکستان کی کچھ نجی اور بعد ازاں سرکاری جامعات نے اپنے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع کیا جس میں ابتداء میں طلبہ کو لوڈ شیڈنگ اور انٹرنیٹ کی عدم فراہمی سمیت دیگر کئی مشکلات کا سامنا رہا تاہم متبادل طریقہ کار نہ ہونے کے سبب نجی اسکولوں نے بھی اپنے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز شروع کردی جو تاحال جاری ہیں۔

ادھر وفاقی و صوبائی حکومتوں کے 7 ستمبر کو کیے گئے مشترکہ فیصلے کے تحت پہلے مرحلے میں منگل 15 ستمبر سے اسکولوں میں نویں دسویں کی کلاسز شروع ہوجائیں گی۔ اسی طرح کالج اور جامعات میں بھی آج منگل سے ہی تدریس اور امتحانات کا سلسلہ شروع ہوگا تاہم چھٹی سے آٹھویں تک کلاسز آئندہ ہفتے 22 ستمبر جبکہ پرائمری اور پری پرائمری کلاسز ستمبر کے آخر سے شروع ہوں گی۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت کلاس رومز میں کرسیوں کے درمیان فاصلہ رکھنا، طلبہ کو ماسک پہننا اور ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال لازمی ہوگا۔ نجی اسکولوں اور جامعات میں جراثیم کش اسپرے بھی کرایا جارہا ہے جبکہ ایس او پیز پر عمل کرانے کے لیے تدریسی و غیر تدریسی عملے کو تربیت بھی دی جارہی ہے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.