آئندہ انتخابات میں حلقہ بندیوں کی تیاری کے حوالے سے پلین جاری کردیا ،ہارون شنواری

الیکشن کمیشن کے ترجمان ہارون شنوار ی نے کہا کہ حلقہ بندیوں پر کام15 جنوری سے 28 فروری 2018ء تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ حتمی حلقہ بندیاں 20تک شائع کی جائیں گی ، الیکشن کمیشن نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تمام پولنگ سٹیشنز کو گوگل میپ سے منسلک کردیا ہے اور اب راتوں رات پولنگ سٹیشن تبدیل نہیں کئے جا سکیں گے جبکہ ووٹرز اپنے موبائل کے ذریعے اپنے پولنگ سٹیشن تلاش کر سکیں گے، پولنگ سٹیشنز کی لوکیشن الیکشن سے پہلے آن کر دی جائے گی۔ترجمان الیکشن کمیشن ہارون شنواری کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات کی حلقہ بندیوں کیلئے پلان جاری کردیا، حلقوں کی نئی حد بندیوں میں45روز لگیں گے، اس وقت ہم سینٹ الیکشن کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور امید ہے مارچ کے پہلے ہفتے تک سینیٹ الیکشن ہوں گے۔ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے4ماہ قبل الیکشن کمیشن اپنا پلان دیتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے قبل اپنا کام مکمل کرلیں گے۔ اس بار الیکشن کمیشن عام انتخابات کو جدید انداز میں کروانے کے لئے منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اس دوران مانیٹرنگ کے لئے بھی جدید طریقہ کار استعمال کیا تھا،اس طریقہ کار کا پہلی دفعہ پشاور کے حلقہ این اے فو ر میں استعمال کیا ، جس کے تحت ہم نے مقامی میڈیا سے پہلے ہی نتائج کا حتمی اعلان اپنی ویب سائٹ پر جاری کردیا تھا۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات میں پولنگ سٹیشن کے عملے کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے ، پولنگ عملے کوگذشتہ انتخابات میں ایک دن کی تربیت دی گئی تھی جب کہ آئندہ انتخابات میں انہیں دو دن کی تربیت دی جائے گی ، اس تربیت میں پہلے روز عملے کو تھیوری پڑھائی جائے گی جبکہ آخری روز انہیں عملی تربیت دی جائے گیہارون شنواری کا مزید کہنا تھا کہ بندیوں کی تیاری کے حوالے سے پلان جاری کر دیا ہے جس کے مطابق اس کام میں 5 ماہ سے زائد کا عرصہ لگ جائے ،جبکہ حتمی فہرست20مئی تک شائع ہو جائیں گی۔ حلقہ بندیوں کے حوالے سے 26دسمبرسے 5جنوری تک حلقہ بندی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جبکہ 26دسمبرتا 10جنوری تک نقشہ جات اوردیگرڈیٹالیاجائےگا۔ادارے کے مطابق حلقہ بندیوں پرکام 15جنوری سے 28 فروری تک مکمل کیاجائےگا جبکہ اعتراضات 5مارچ سے 3اپریل تک کئے جاسکیں گے اور اعتراضات پرفیصلے 4اپریل تا 3 مئی تک کئے جائیں گے


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.