چیف جسٹس نے عاصمہ قتل کیس کاازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخواسے 24 گھنٹوں میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی

اسلام آباد :  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے مردان میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد قتل ہونے والی ننھی عاصمہ کے کیس کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔
چیف جسٹس نے عاصمہ قتل کیس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے 24 گھنٹوں میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مردان کی 4 سالہ ننھی عاصمہ کو 13 جنوری کو اغوا کیا گیا تھا جبکہ 14 جنوری کو اس کی لاش گاﺅں کے قریبی کھیتوں سے ملی تھی ۔ عاصمہ کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے 200 افراد کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں جبکہ فرانزک رپورٹ آنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں تفتیش کیلئے ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور مقتولہ عاصمہ کے قریبی رشتے داروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ڈی پی او مردان میاں سعید کا کہنا ہے کہ بچی کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔زیادتی ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.