چیف جسٹس کا کراچی کے فٹ پاتھ اسکول کو مناسب جگہ فراہم کرنے کا حکم

چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکریٹری تعلیم کو کراچی میں واقع فٹ پاتھ اسکول کے لیے مناسب جگہ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع فٹ پاتھ اسکول سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے سیکریٹری تعلیم سندھ سے استفسار کیا کہ آپ کو ذاتی حیثیت میں اسکول کا دورہ کرنے کا کہا تھا جس پر سیکریٹری تعلیم نے بتایا کہ پیر کو خود فٹ پاتھ اسکول کا دورہ کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فٹ پاتھ کے قریب ہی اسکول ہے جہاں اس اسکول کو منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔

سماعت کے دوران کلفٹن میں واقع فٹ پاتھ اسکول کی روح رواں انفاس علی شاہ رو پڑیں اور بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود کچھ لوگ آئے اور بدتمیزی کی۔

انفاس علی شاہ نے بتایا کہ فٹ پاتھ اسکول میں 600 سے زائد بچے زیر تعلیم ییں اور قصور میں زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد 250 بچوں کو مارشل آرٹ کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔

انہوں نے عدالت میں کہا کہ میں کچرا اٹھانے والے بچوں کو پڑھا رہی ہوں، میرے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا کہ جیسے کوئی غلط کام کر رہی ہوں۔

عدالت نے سیکریٹری تعلیم کو انفاس علی شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے محکمہ تعلیم کو اسکول کے لیے مناسب جگہ اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچوں کو سڑکوں پر پڑھانے کی اجازت نہیں دے سکتے، بچوں کو تعلیم کے لیے جگہ کے ساتھ پانی اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔

عدالت نے بیرسٹر صلاح الدین کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لینے اور معاملے سے آگاہ کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری تعلیم کو 31 مارچ تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انفاس علی شاہ کا کہنا تھا کہ سیکریٹری تعلیم اور ان کے لوگوں نے مجھے ہراساں کیا جس کے باعث میں ایک ہفتہ اسپتال میں زیر علاج رہی۔

انفاس علی نے بتایا کہ ہم نے کچی آبادیوں اور فٹ پاتھ پر سونے والے بچوں کو پڑھانا شروع کیا لیکن سیکریٹری تعلیم عدالت کے سامنے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.