Daily Taqat

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر چیف جسٹس نے بڑا اعلان کر دیا

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے کیس میں کہا ہے کہ پہلے ملک بھر کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرکے سرٹیفکیٹ عدالت میں جمع کرائے جائیں۔ اس کے بعد ہی اپنی تنخواہ لوں گا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سرکاری ملازمین کوتنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کی جس کے سلسلے میں اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے اکاؤنٹنٹ جنرل سے استفسار کیا کہ 24، 24 تاریخ تک ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں، سرکاری ملازمین کے گزر بسر اور تکالیف کا آپ کو اندازہ ہے؟ اکاؤنٹنٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ ماہ بجٹ نہیں ملا تھا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بجٹ کی تاخیر یا کوئی اور وجہ ہو، تنخواہ وقت پرادا کریں۔ جو بھی مسئلہ ہے اسے حل کریں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئندہ ان لوگوں کو تنخواہ ادا کر کے سب سے آخر میں مجھے تنخواہ دی جائے گی۔ پہلے پورے ملک کے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے سرٹیفکیٹ عدالت میں جمع ہوں گے جس کے بعد اپنی تنخواہ کا چیک لوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں کہتا ہوں تمام سرکاری ملازمین کو ایک ہی دن تنخواہ ملے۔ عدالت کے حکم پر اکاؤنٹنٹ جنرل اور وزارت خزانہ نے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سرٹیفکیٹ جمع کرانیکی یقین دہانی کرائی۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »