سندھ آکر پتہ چلا کہ یہاں کوئی طور طریقہ نہیں

کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لیڈیز کلب لاڑکانہ کی اراضی کو کمرشل مقاصد کے لئے تبدیل کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اپنے

ریمارکس دیتے ہوئے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک کھوکھا بھی الاٹ کرنے کا اختیار نہیں اور یہاں جس کا دل چاہتا ہے زمینیں الاٹ کردیتا ہے،  مزید انہوں نے کہا  کہ  سندھ میں کوئی طور  طریقہ  نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو  لاڑکانہ کے جناح گارڈن کی کل اراضی 20 ہزار اسکوائر یارڈ  بتائی ہے اور 3 ہزار اسکوائر یارڈ پر لیڈیز کلب لاڑکانہ تعمیر کیا گیا  ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مزید بتایا کہ جناح گارڈن لاڑکانہ میں نیشنل ہیلتھ سینٹر، لاڑکانہ پریس کلب اور سرکاری اسکول بھی قائم  کئے گئے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مزید بتایا کہ میونسپل کمیٹی لاڑکانہ نے دکانیں بنا کر کرائے پر دے رکھی ہیں جب کہ میونسپل کمیٹی کو یہ اراضی الاٹمنٹ کرنے کا اختیار تھا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب پارکس صرف عوامی ملکیت ہوتے ہیں اور حکومت چاہے بھی تو پارک پر کچھ اور نہیں بنا سکتی۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کوپارکس کو ان کی اصل حالت میں بحال کرنے کی نصیحت کی۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.