عدلیہ کے ساتھ دست و گریبان ہونے کی دھمکیاں دینے والے اپنا رویہ بدلیں,سینٹر سراج الحق

میر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسر اج الحق نے کہاہے کہ سابق وزیراعظم عدالتوں کی بجائے غربت، جہالت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کے خلاف اعلان جنگ کرتے تو بہتر تھا ، یہ تمام مسائل انہی حکمرانوں کے تحفے ہیں ، اب گالم گلوچ اور ایک دوسرے کو گریبانوں سے پکڑنے کی باتیں چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہیے ،موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے لوٹ مار کی دولت اور تھانیدار اور پٹواری کے ذریعے عوام کو یرغمال بنایا اور الیکشن کمیشن سے مرضی کے نتائج حاصل کیے،ملک کو سیاسی و معاشی دہشتگردوں کے چنگل سے آزادی دلانے کے لیے دیانتدار اور باصلاحیت لوگوں کو آگے لانا ہوگا ، کرپٹ اور بددیانت ٹولہ پارٹیاں اور جھنڈے بدل کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتاہے اور اپنے ذاتی کاروبار کو بڑھانے کے لیے ہر جائز و ناجائز کام کرتاہے ،وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ اور گورنر ز عوامی عہدوں پر بیٹھ کر ذاتی کاروبار چلارہے ہیں جو انتہائی شرم کا مقام ہے ، جماعت اسلامی کو حکومت کا موقع ملا تو لٹیروں سے قوم کی لوٹی گئی پائی پائی وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائیں گے اور سودی معیشت کا خاتمہ کر کے ملک میں اسلامی معیشت کا نفاذ کریں گے،تعلیم اور صحت کی سہولتیں سب کے لیے یکساں ہوں گی ، یکسا ں نظام تعلیم اور نصاب ہو گا اور سکولز و مدارس کے طلبہ و طالبات کے لیے تعلیم مفت ہو گی ،  جی ڈی پی کا پانچ فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے گا، بے روزگار نوجوانوں کو روز گار اور ستر سال سے زائد عمر کے شہریوں کو بڑھاپا الاﺅنس دیا جائے گا ۔سینیٹرسر اج الحق نے کہاکہ علاقائی حالات کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی اختلافات سے نکل کر ملک کو در پیش چیلنجز سے نپٹنے کے لیے متحدہو جائیں اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر فیصلے کریں، افراد اور خاندانوں کی سیاست کی بجائے آئین و قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بالادستی قائم کرنا ہوگی،عدلیہ کے ساتھ دست و گریبان ہونے کی دھمکیاں دینے والوں کو اپنے رویے کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مقابلہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار حکمرانوں اور ان عالمی دہشتگردوں کے ساتھ ہے جنہوں نے افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برسائے اور اب انہوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کر دیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی دہشتگردوں کا سرپرست امریکہ اسلامی تہذیب و تمدن کو تباہ کر کے اپنی تہذیب مسلط کرنا چاہتا ہے ، امریکہ نے ہر جگہ اپنے گھوڑے پال رکھے ہیں جب ایک گھوڑا ناکام ہو تاہے تو وہ دوسرے کو لے آتا ہے جو امریکی پالیسیوں کو آگے بڑھاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملکی اقتدار پر قابض وی آئی پیز اور اسٹیٹس کو کی قوتوں نے عوام کو مسائل و مشکلات سے دوچار کردیاہے،ملک میں موجود تین سو خاندانوں نے عوام کو یرغمال بنارکھاہے ،ان خاندانوں نے پارٹیوں کو اپنی گرفت میں لے رکھاہے ، چچا ایک پارٹی میں تو بھتیجا دوسری میں اور بھانجا ایک میں اور ماموں دوسری پارٹی میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ لینڈ ، ڈرگ ، اور شوگر مافیاز ہیں جنہوں نے دولت کی ہوس میں عوام سے ان کی خوشیاں چھین لی ہیں لیکن اب ان کی میڈ ان لندن اور نیویارک سیاست نہیں چلے گی ، برسراقتدار پارٹیوں کا دورا اب ختم ہوچکاہے ،عوام اسٹیٹس کو کی پیدوار ان پارٹیوں کے اقتدار پر قابض رہنے کے ہتھکنڈوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ مسائل سے نکلنے کا واحد راستہ ملک میں نظام مصطفے ٰ کا نفاذ اور خلافت کا نظام ہے ۔ اس کے علاوہ ظلم و جبر کے سیاسی نظام کے خاتمہ کا کوئی علاج نہیں ۔ عوام اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے میں ہمارا ساتھ دیں۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.