نقیب اللہ کو ویر، جانی اور بلبل وزیرستان کہتے تھے

جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا نقیب اللہ محسود اپنے قبائلی ڈانس ، پرکشش ڈریسنگ اور ہیئر اسٹائل کی وجہ سے حلقہ احباب میں ویر ، جانی اور بلبل وزیرستان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔نقیب اللہ محسود کے دوستوں اور گھر والوں کو اب بھی یقین نہیں آتا کہ ان کا خوش باش دوست ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ماردیا گیا اور یوں دوستوں کا بلبل وزیرستان ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔گزشتہ روز نقیب اللہ محسود کی جنوبی وزیرستان میں تدفین کے بعد آج بھی نقیب کے گھر میں اس کے دوستو ں کی آمد جاری ہے، جہاں دور دور سے آنے والےقبائلی عمائدین بھی نقیب کے ایصال ثواب کے لیے قاتحہ خوانی کررہے ہیں۔ نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود کا کہنا ہےکہ ان کا بیٹا ایک خوش مزاج انسان تھاجو ہر کسی کو خوش دیکھنا چاہتا تھا،اس کے باوجود اس پر دہشت گردی کے الزامات لگا نا افسوس ناک ہے۔نقیب اللہ محسود کے ورثاء اور دوستوں کا مطالبہ ہے کہ نقیب اللہ کے قاتلوں کو فی ا لفور گرفتارکرکے سخت سزا دی جائے تاکہ کوئی اور بےگناہ اس طرح اپنے پیاروں سے نہ بچھڑسکے۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.