Daily Taqat

جماعت الدعوۃ پر پابندی نامنظور ،سلامتی کونسل سے عالم اسلام کو کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے:سینیٹر سراج الحق

اسلام آباد:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے حکومت کی طرف سے 11اپریل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا متنازع آرڈی نینس ” انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیمی آرڈی نینس نمبر 2018-2 ءجو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں جماعت الدعوہ پر پابندی سے متعلق ہے کے خلاف نامنظوری کا نوٹس سینیٹ میں جمع کرادیا ہے،نوٹس پر ان کے ساتھ سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی دستخط کیے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں نوٹس جمع کرانے کے بعد  پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سلامتی کونسل سے عالم اسلام کو کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے ،یہ کفن چوروں کا عالمی ٹولہ اور امریکہ کی کٹھ پتلی ہے ، جبکہ حکومت آرڈی نینس کے ذریعے قانون میں ترمیم کے ذریعے اپنے ملک کو اقوام متحدہ کی غلامی میں دے رہی ہے ، آرڈی نینس میں ترمیم کے حکومت نے جو اغراض و مقاصد بتائے ہیں ، وہ اپنی عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔ اپنی عدالتوں کو سلامتی کونسل کا پابند بنانا عدالتوں کی بے توقیری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر صاحب کہتے ہیں کہ عدالتیں ثبوت مانگتی ہیں اور بعض اوقات ہمارے پاس ثبوت نہیں ہوتے جس کی وجہ سے عدالتیں ملزموں کو رہا کردیتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بغیر ثبوت کے کونسا قانون اجازت دیتاہے کہ لوگو ں کو پابند سلاسل کردیاجائے؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سلامتی کونسل کی طرف سے نامزد اور خطرناک قرار دیے گئے ملزموں کے خلاف شواہد کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ؟سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہم حکومتی ترمیم کی سینیٹ اور قومی اسمبلی ، دونوں ایوانوں میں مخالفت کریں گے ،حکومت اس ترمیم کو واپس لے اور عدلیہ پر اعتماد کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ سلامتی کونسل کا کردار پہلے دن ہی سے متنازعہ رہاہے،خاص طور پر مسلم مقبوضہ علاقوں کے حوالے سے سلامتی کونسل کے دوہرے معیار کی وجہ سے یہ ادارہ اپنی اہمیت کھو چکاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا کوئی ایک بھی نمائندہ سلامتی کونسل میں نہیں،کشمیر ، فلسطین کے مسائل پر سلامتی کونسل نے ستر سال سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں،کشمیر اور فلسطین میں روزانہ مسلمانوں کا قتل عام ہورہاہے اور دونوں مقبوضہ علاقوں میں مسلمانوں کو بدترین ریاستی دہشتگردی اور نسل کشی کا سامناہے مگر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور سلامتی کونسل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کا مسلم مخالف رویہ کھل کر سامنے آچکاہے،سلامتی کونسل کے ہر فیصلے کو ہم نے اپنے آئین کی روشنی میں دیکھنا ہے ،ہمیں سلامتی کونسل کی غلامی کی بجائے اپنے آئین و دستور اور آئینی اداروں پر اعتماد کر نا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ڈس اپروول آرڈی نینس 2018-2 ءبابت 1997 ءمیں مجوزہ ترمیم کو واپس لے ۔


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »