اس وقت ٹیکنو کریٹ حکومت کی ضرورت ہے، ریاست بچانے کیلئے آئین کو توڑا جا سکتا ہے، سابق صدر پرویز مشرف

اسلام آباد:  سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملک میں مارشل لاءلگنے کے کوئی واضح نشانات نظر نہیں آرہے ہیں،توقع ہے سپریم کورٹ حکومت کو گھر بھیجے گی، نا اہل حکمران گورننس نہیں جانتے، وقت آگیا کہ نظام کو تبدیل کیا جائے، نئے صوبے بنائے جائیں ۔
پرویز مشرف نے کہا کہ حکومت مدت پوری کرتی ہوئی نظر نہیں آرہی، میری خواہش ہے کہ یہ جلد جائیں، انہوں نے کہا کہ معیشت تباہ حال ہے پھر یہ کہتے ہیں کہ آمریت آگئی ، ہمیں چلنے نہیں دیا جا رہا ، آپ اگر ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں تو آپ کو کون چلنے دے گا؟ انہوں نے کہا کہ نا اہل شخص کا پارٹی سربراہ بننا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

پرویز مشرف نے کہا کہ گریٹر پلان کی باتوں میں صداقت نہیں، نا اہل حکمران عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں، پتہ نہیں آبپارہ کیا کر رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت بنا کر تین یاچھ ماہ میں انتخابات کرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، اس وقت ٹیکنو کریٹ حکومت کی ضرورت ہے، ریاست بچانے کیلئے آئین کو توڑا جا سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نظام میں چیک اینڈ بیلنس کے بغیر بہتری نہیں لائی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جانتا ہوں وہ ایماندار شخص ہیں، وہ سیاسی طور پر غلطیاں تو کر سکتے ہیں مگر کرپٹ نہیں، عمران خان اور نواز شریف کا موازنہ درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ لفظ مہاجر اور ایم کیو ایم سے چھٹکارا پانا ہو گا، میں جماعتوں کے سر پر بیٹھنے کی بجائے عوام میں اپنی مقبولیت دیکھنا چاہتا ہوں، صورتحال تبدیل ہو گئی، اب افتخار چوہدری ہے اور نہ ہی نوا ز شریف ، اگلے چند ماہ میں حالات دیکھ کر واپسی کا فیصلہ کروں گا، انہوں نے کہا کہ عمران خان سولو فلائٹ پر ہیں، ان سے رابطہ نہیں ، انہوں نے کہا کہ مجھ پر آرٹیکل 62 لاگو نہیں ہوتا، اگر عدالت مجھے نا اہل کرتی ہے تو اس کا فیصلہ مانوں گا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.