Daily Taqat

عاصمہ جہانگیر کا نام پاکستان کی تاریخ میں انفرادیت کا حامل: حامد میر

سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر یقینا ایک بہت بڑا نام تھا اور ان کا خلاءپرکرنا بہت مشکل ہے۔
حامد میر نے کہا کہ ”مجھے عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر پر ابھی تک یقین نہیں آ رہا کیونکہ میری کل ہی ان سے بات ہوئی تھی۔ ان کیساتھ میرا صرف پروفیشنل ہی نہیں بلکہ ذاتی تعلق بھی تھا۔ جب میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں طالب علم تھا تو ایک دفعہ مال روڈ کے جلوس میں بطور طالب علم شریک ہوا جہاں مجھے اور عاصمہ جہانگیر کو اکٹھے مار پڑی تھی اور جب ہمارے مقدمات ہوتے تھے توہ وہ مفت لڑا کرتی تھیں۔
عاصمہ جہانگیر کا نام پاکستان کی تاریخ میں اس حوالے سے بڑی انفرادیت کا حامل ہے کہ جب وہ بہت نوجوان تھیں تو جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں انہوں نے اپنے والد ملک غلام جیلانی کی غیر قانونی نظربندی کیخلاف رٹ دائر کی تھی اور پھر اس پر جو فیصلہ آیا تھا اس کا ابھی تک پاکستان کی عدلیہ کے فیصلوں میں حوالہ دیا جاتا ہے جو کہ عاصمہ جیلانی کے نام سے مشہور ہے۔
پھر جب جنرل ضیاءالحق کا دورہ آیا تو عاصمہ جہانگیر نے عورتوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی تھی وہ ناقابل فراموش ہے اور پچھلے 15 سے 20 سال میں ان کا جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے جو موقف تھا وہ ہم سب کو پتہ ہے۔ ان کا تازہ ترین ایک ایسا کام تھا جس کے باعث مقبوضہ کشمیر کے لوگ ان سے محبت کرنے لگے۔ وہ پچھلے سال اقوام متحدہ کے ریپورٹیر کی حیثیت سے سری نگر گئی تھیں اور پھر واپس آ کر انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کو اندھا کرنے کے معاملے پر بہت ہی بھرپور موقف اپنایا تھا۔ ان کے بھرپور موقف اپنانے کے باعث مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی ان سے بہت محبت کرنے لگے تھے۔
ان کے مخالفین ہمیشہ الزام لگاتے تھے کہ وہ پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرتی ہیں، لیکن جو لوگ ان سے پیار اور محبت کرتے تھے ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان میں انسانی حقوق کیلئے بہت بڑی جدوجہد کر رہی ہیں۔ انہوں نے پچھلے سال نوجوان بچیوں کو جلانے کے واقعات پر سپریم کورٹ بار کا فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنایا تھا جس میں مجھے بھی شامل کیا اور مجھے وہ اپنے ساتھ مری کے علاقے میں لے گئیں۔
وہ خود ہمیں صبح صبح لے کر گئیں اور وہاں میں نے دیکھا کہ ان کی طبیعت کافی خراب تھی لیکن ایک بچی کے قتل کے بارے میں حقائق جاننے کیلئے وہ پہاڑ پر چڑھیں، ان کا سانس پھولتا تو بیٹھ جاتیں، پھر چڑھائی شروع کر دیتیں، سانس پھولتا تو پھر بیٹھ جاتیں لیکن وہ پہاڑ پر چڑھیں اور بہت سی خواتین کے بیانات ریکارڈ کئے۔
اس روز میں نے پہلی دفعہ انہیں دیکھا کہ وہ پہاڑی علاقے میں بہادری کے ساتھ ایک سراغ رساں صحافی کی طرح کام کر رہی تھیں، ابھی تک مجھے یقین نہیں آ رہا کہ وہ اس دنیا سے چلی گئی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو صبر و جمیل عطاءفرمائے۔ یقینا وہ ایک بہت بڑا نام تھا اور ان کا خلاءپر کرنا بہت مشکل ہے۔“


Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Translate »