عدالت کی جانب سے خشک دودھ اوردودھ کے نام پرکیمیکل فروخت کرنے والی کمپنیوں کی تفصیلات طلب

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لوگوں کو دھوکے میں رکھ کر دو دھ کے نام پر کیمیکل بیچنے کی اجازت نہیں دیں گے، ڈبے میں دودھ نہیں تو دودھ کیوں لکھا گیا، ایسا کرنے پر کیوں نہ کمپنی کو بند کر دیا جائے، ناقص دودھ پینے سے بچے متاثر ہو رہے ہیں، ڈبے پرواضح اوربڑے حروف میں لکھیں کہ یہ دودھ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ناقص دودھ کی فروخت کے خلاف از خود کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ معیاری دودھ بیچنے والوں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کسی کے کاروبار کو ختم کرنا مقصد نہیں، کھلے دودھ کی فروخت میں بہت سے مسائل ہو رہے ہیں، کیا پنجاب میں بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں پر پابندی عائد کی گئی ہے یا نہیں۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے عدالت کو بتایا کہ بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکے بنانے اور فروخت کر نے والی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دئیے گئے، کھلے دودھ کی فروخت پر پابندی کے لئے پا سچرائزیشن کا قانون منظور ہو چکا ہے، عدالت نے انجکشن کی فروخت میں ملوث کمپنی کو حکم امتناع والے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا اور قراردیا کہ مرغیوں کو لگائے جانے والے انجکشن اور اسٹیرائڈز کے اثرات ہمارے جسم پر آ رہے ہیں، بچیوں کے ہارمونز میں تبدیلی کی شکایت عام ہو چکی ہے۔

عدالت نے انجکشن فروخت کرنے پرنوٹس جاری کر دئیے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پیمرا کو کہیں گے کہ اس حوالے سے اشتہاری مہم چلائے، عدالت نے خشک دودھ اور دودھ کے نام پر کیمیکل فروخت کرنے والی کمپنیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں، عدالت نے خشک دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ استعمال شدہ گھی انتہائی مضر ہوتا ہے، یہ فروخت کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔

عدالت نے صاف پانی کی فراہمی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی بھی سماعت کی۔ چیف سیکرٹری نے اسپتالوں اور محلوں کا گندا پانی نہروں میں شامل ہونے کا اعتراف کرلیا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.