انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عمران خان کے کیخلاف دہشتگردی کی دفعات برقرار

  اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف درج 4 مقدمات سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ ایس ایس پی تشدد سمیت4 مقدمات کی سماعت کے دوران عمران خان بھی موجود تھے۔ بابر اعوان نے درخواست پر اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو جس کیس میں سمن کیا گیا وہ دہشت گردی کا مقدمہ نہیں۔مقدمات میں کہیں بھی دہشت گردی کا عنصر نہیں ملا۔ پولیس کے مطابق تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنان نے ڈنڈوں، غلیلوں سے حملہ کیا۔ کیا یہ دہشت گردی ہے؟ایس ایس پی تشدد کیس کے 11 گواہوں میں کسی نے عمران خان کا نام نہیں لیا۔استغاثہ نے موقف اختیار کیا کہ دھر نا طاقت کے ذریعے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے تھا۔اس میں عمران خان کا مرکزی کردار تھا۔ عمران خان نے تقریر کی کہ پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاوس پر قبضہ کریں گے۔ دھرنے کے دوران عارف علوی نے فون کرکے عمران خان کو بتایا کہ پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کرلیا گیا۔ بابر اعوان نے کہا کہ صرف تقاریر پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنایا جاسکتا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کردی ۔ عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک کی توسیع کر دی اور ساتھ ہی ساتھ آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا۔

اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.