زیادتی کے بعد قتل کے ملزم کو بری کر دیا گیا

سپریم کورٹ نے تربت میں زیادتی کے بعد قتل ہونیوالی 11 سالہ بچی کے ملزم کو بری کردیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں تربت میں زیادتی کے بعد قتل ہونیوالی 11 سالہ نعلین کے کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد

پر ملزم کو بری کردیا۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں ملزم کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ بچی کا پوسٹ مارٹم قبر کشائی کے بعد کرایا گیا جبکہ طبی معائنہ کے بغیر زیادتی ہونا ثابت نہیں ہوسکا،اس لئے واقعے کے چشم دید گواہ نہ ہونے اور ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی کے بعد ملزم کو بری کیا جاتا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا کہ بچی کو ملزم کے ساتھ جاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا اور قتل کیسے ہوا اس بارے کوئی بھی چیز ٹرائل کورٹ میں ثابت نہیں کی جاسکی۔خیال رہے کہ 11 سالہ نعلین کو16 جون 2012 ءمیں زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا تھا بچی کی لاش کو کنویں سے برآمد کیا گیا تھا جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت دی تھی جبکہ ہائیکورٹ نے ملزم کی درخواست پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔


اپنی راہےکااظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.